سوال : اگر کوئی شخص نماز میں امام سے رکوع و سجود میں سبقت لے جائے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب بشرط صحۃ السؤال
واضح رہے کہ جماعت میں امام کو اس لیے مقرر کیا جاتا ہے تاکہ اس کی اقتداء کی جائے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
﴿ إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ﴾(صحیح بخاری:732)
لہٰذا مقتدی پر لازم ہے کہ وہ امام کے ساتھ یا اس کے بعد افعالِ نماز ادا کرے، اس سے آگے بڑھنا درست نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے امام سے پہلے سر اٹھانے والوں کے بارے میں سخت وعید بیان فرمائی:
﴿أَمَا يَخْشَى أَحَدُكُمْ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلَ الإِمَامِ، أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ، أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ ﴾(صحیح بخاری:691)
یعنی: تم میں وہ شخص جو ( رکوع یا سجدہ میں ) امام سے پہلے اپنا سر اٹھا لیتا ہے اس بات سے نہیں ڈرتا کہ کہیں اللہ پاک اس کا سر گدھے کے سر کی طرح بنا دے یا اس کی صورت کو گدھے کی سی صورت بنا دے۔
لہٰذا:اگر کوئی شخص جان بوجھ کر امام سے پہلے رکوع یا سجدہ کرے تو یہ عمل حرام ہے، اور اہلِ علم کے نزدیک اس سے نماز فاسد ہونے کا اندیشہ ہے۔ البتہ اگر یہ سبقت بھول یا غلطی سے ہو جائے تو فوراً امام کی پیروی کرتے ہوئے اسی حالت میں شامل ہو جائے، اس کی نماز درست ہوگی۔
خلاصہ:امام سے آگے بڑھنا ناجائز ہے، جان بوجھ کر کرنے سے نماز کے باطل ہونے کا خطرہ ہے، جبکہ بھول سے ہو تو فوراً اصلاح کر لینے سے نماز صحیح رہتی ہے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی