سوال:نکاح کے بعد رخصتی سے قبل بات چیت اور ملاقات کا کیا حکم ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورتِ مسئلہ میں بر صحتِ سوال
نکاح منعقد ہو جانے کے بعد مرد و عورت شرعاً میاں بیوی کے حکم میں آ جاتے ہیں، اس لیے اصل قاعدہ یہ ہے کہ نکاح کے بعد وہ تمام امور حلال ہو جاتے ہیں جو زوجین کے درمیان جائز ہوتے ہیں، خواہ ابھی رخصتی نہ ہوئی ہو۔
نکاح کے صحیح طور پر منعقد ہو جانے کے بعد عورت مرد کے لیے حلال ہو جاتی ہے، اور اس کے ساتھ گفتگو، ملاقات اور دیگر ازدواجی حقوق و تعلقات شرعاً جائز ہو جاتے ہیں، اور ان کے درمیان پردے یا اجنبیت کے احکام باقی نہیں رہتے۔
البتہ اس کے ساتھ چند امور کا لحاظ رکھنا ضروری ہے:
- معاشرتی عرف و رواج کا خیال رکھا جائے، تاکہ کسی قسم کا فتنہ، بدگمانی یا فساد پیدا نہ ہو۔
اگر نکاح کے وقت فریقین یا خاندانوں کے درمیان کوئی واضح معاہدہ یا شرط طے پائی ہو (مثلاً ملاقات یا تعلق کو رخصتی تک محدود رکھنا)، تو اس شرط کی پابندی کرنا شرعاً واجب ہے، کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے:
﴿ إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ يُوَفَّى بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ﴾(سنن ابی داود:3283)
یعنی: شرطوں میں سب سے پہلے پوری کی جانے والی شرط وہ ہے جس کے ذریعہ تم عورتوں کی شرمگاہیں اپنے لیے حلال کرتے ہو۔
لہٰذا خلاصہ یہ ہے کہ نکاح کے بعد رخصتی سے قبل بات چیت اور ملاقات شرعاً جائز ہے، کیونکہ نکاح کے بعد دونوں میاں بیوی شمار ہوتے ہیں، البتہ عرف، مصلحت اور طے شدہ شرائط کی رعایت لازم ہے، اور اگر کسی شرط کی خلاف ورزی سے نزاع یا فتنہ کا اندیشہ ہو تو اس سے بچنا ضروری ہوگا۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی