بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
حالتِ حیض میں دی گئی طلاق کا حکم

حالتِ حیض میں دی گئی طلاق کا حکم

سوال: اگر کوئی شخص اپنی اہلیہ کو حالتِ حیض میں طلاق دے تو کیا ایسی طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورتِ مسئلہ میں بر صحتِ سوال

طلاق دینے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ عورت کو ایسی حالتِ طہر میں طلاق دی جائے جس طہر میں اس سے جماع نہ کیا گیا ہو، نیز ایک مجلس میں ایک ہی طلاق دی جائے۔ یہی وہ طریقہ ہے جس کی شریعت نے رہنمائی فرمائی ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ ﴾(سورۃ الطلاق: 1)

یعنی:اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے وقت میں طلاق دو اور عدت کو شمار رکھو۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ طلاق کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ وہ عدت کے آغاز کے قابل وقت میں دی جائے، اور وہ وقت حالتِ طہر ہے، نہ کہ حیض۔

البتہ اگر کوئی شخص حالتِ حیض میں طلاق دے دے تو یہ سنت کی مخالفت اور بدعی عمل ہے، جس پر  ایسا کرنے والے پر توبہ و استغفار کرنا ضروری ہے، البتہ  اس کے  واقع ہونے  یا نہ ہونے کے حوالے سے فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، تاہم دلائل کے مجموعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایسی طلاق واقع ہو جاتی ہے، اگرچہ دینے والا گناہ گار ہوتا ہے، کیونکہ اس نے سنت طریقے کی مخالفت کی۔

اس کی واضح دلیل حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا واقعہ ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی، تو یہ بات نبی کریم ﷺ تک پہنچی، آپ ﷺ ناراض ہوئے اور فرمایا:

﴿ مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ﴾اور ایک روایت میں ہے:﴿ فَارْجِعْهَا ﴾(صحیح بخاری:5252)

یعنی:اسے حکم دو کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کر لے۔

نبی کریم ﷺ کا رجوع کا حکم دینا اس بات کی دلیل ہے کہ طلاق واقع ہو چکی تھی، کیونکہ رجوع اسی طلاق کے بعد ہوتا ہے جو واقع ہو جائے۔

لہٰذا خلاصہ یہ ہے کہ حالتِ حیض میں طلاق دینا سنت کے خلاف اور گناہ ہے،تاہم جمہور فقہاء کے نزدیک ایسی طلاق واقع ہو جاتی ہے.طلاق دینے والے پر لازم ہے کہ آئندہ شریعت کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عمل کرے۔

ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔