سوال: عشاء کی نماز کی کل کتنی رکعات ہیں،کیا وتر کی نماز بھی عشاء کی نماز کا حصہ ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورتِ مسئلہ میں بر صحتِ سوال
نماز عشاء کی فرض رکعات کی تعداد چار ہے، جیسا کہ ام المومنین سیدہ عائشہ کی روایت ہے:
﴿ فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ وَزِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ﴾(صحیح بخاری:350)
یعنی: نماز دو دو رکعت فرض کی گئی، پھر سفر کی نماز (دو ہی) برقرار رکھی گئی، اور حضر کی نماز میں اضافہ کر دیا گیا۔
ابن خزیمہ اور طبرانی کے الفاظ ہیں کہ حضر کی نماز میں دو دو رکعتوں کا اضافہ کر دیا گیا، اور فجر اور مغرب کی نماز میں اضافہ اس لیے نہیں کیا گیا کہ فجر میں قرأت لمبی ہوتی ہے اور مغرب دن کی وتر ہے۔
سنن موکدہ کی تعداد “دو” ہے، جیسا کہ ام المومنین ام حبیبہ کی روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:
﴿ مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ…… وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ﴾(سنن ترمذی:415)
یعنی: جوشخص رات اوردن میں بارہ رکعت سنّت پڑھے گا ،اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا……… دوعشاء کے بعد۔
البتہ وتر کی نماز عشاء کی نماز کا حصہ نہیں ہے یہ رات کی علیحدہ نماز ہے، لیکن عشاء کے ساتھ پڑھنے کی رخصت موجود ہے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی