بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
غیر فطری طریقے سے جماع کرنے سے نکاح کا ٹوٹنا

غیر فطری طریقے سے جماع کرنے سے نکاح کا ٹوٹنا

سوال:  غیر فطری طریقے سے جماع کرنے سے کیا نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

          عورت کی پچھلی شرمگاہ (دُبر) میں جماع کرنا شرعاً حرام اور کبیرہ گناہ ہے، خواہ یہ عمل حیض کے دنوں میں کیا جائے یا عام دنوں میں، دونوں صورتوں میں اس کی حرمت قطعی ہے،نبی کریم ﷺ نے اس فعل کی سختی سے ممانعت فرمائی ہے، چنانچہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے:

﴿ مَلْعُونٌ مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا ﴾(مسند احمد: 2/479، صحیح الجامع: 5865)

یعنی:وہ شخص ملعون ہے جو اپنی بیوی کی پچھلی شرمگاہ میں جماع کرے۔

اسی طرح نبی کریم ﷺ نے اس گناہ کی شدت کو مزید واضح کرتے ہوئے فرمایا:

﴿ مَنْ أَتَى حَائِضًا، أَوِ امْرَأَةً فِي دُبُرِهَا، أَوْ كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ ﷺ ﴾
(سنن الترمذی: 1/243، صحیح الجامع: 5918)

یعنی: جو شخص حائضہ کے پاس آئے (یعنی اس سے جماع کرے) یا عورت کے پچھلے حصے میں جماع کرے، یا کاہن کے پاس جائے اور اس کی باتوں کی تصدیق کرے، تو اس نے ان چیزوں کا انکار کیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری گئی ہیں۔

ان نصوصِ صریحہ کی روشنی میں فقہاء نے واضح طور پر بیان فرمایا ہے کہ عورت کی پچھلی شرمگاہ میں جماع کرنا سخت حرام، کبیرہ گناہ، اور لعنت کا سبب ہے۔

البتہ اس فعل کے ارتکاب سے نکاح ٹوٹتا نہیں، لیکن یہ عمل شرعاً اور عرفاً نہایت قبیح، فطرت کے خلاف اور انتہائی شرمناک ہے، اور اس کا مرتکب شدید گناہ گار ہوتا ہے۔

اگر کسی شخص سے یہ گناہ سرزد ہو جائے تو اس پر لازم ہے کہ سچے دل سے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرے،اس گناہ پر ندامت کا اظہار کرے،اور آئندہ کبھی ایسا نہ کرنے کا پختہ عزم کرے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔