سوال: ڈراپ شپنگ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورتِ مسئلہ میں بر صحتِ سوال
ڈراپ شپنگ (Drop Shipping) عصرِ حاضر کی ایک تجارتی صورت ہے، جس میں فروخت کنندہ کے پاس عموماً سامان موجود نہیں ہوتا، بلکہ وہ خریدار سے آرڈر لے کر تیسرے فریق (Supplier) سے سامان خریدار تک پہنچواتا ہے۔ اس کی شرعی حیثیت کو سمجھنے کے لیے اس کی مختلف صورتوں میں تفصیل ضروری ہے۔
پہلی صورت:
جب کسی معین چیز کی خرید و فروخت کا معاملہ کیا جائے، اور فروخت کنندہ کے پاس وہ چیز نہ موجود ہو اور نہ ہی اس پر اس کا قبضہ ہو، تو اصل حکم کے اعتبار سے یہ صورت ناجائز ہے، کیونکہ یہ ایسی چیز کی فروخت ہے جو فروخت کنندہ کی ملکیت اور قبضے میں نہیں، جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
﴿ لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ ﴾(سنن ابی داود: 3503)
یعنی:جو چیز تمہارے پاس نہ ہو، اسے فروخت نہ کرو۔
البتہ اس صورت میں درج ذیل استثنائی شکلیں پائی جاتی ہیں جن میں معاملہ جائز ہو جاتا ہے:
- ڈراپ شپنگ کرنے والا شخص بطور کمیشن ایجنٹ (وکیل) کام کرے، یعنی وہ اصل فروخت کنندہ کی طرف سے خریدار تلاش کرے، اور اس کی اجرت یا کمیشن طے شدہ ہو۔
- ڈراپ شپنگ کرنے والا شخص بطور مشارک (Partnership) کام کرے، یعنی وہ اصل سپلائر کے ساتھ نفع و نقصان میں شریک ہو، اور فروخت اس شراکت کے اصولوں کے مطابق ہو۔
ان دونوں صورتوں میں بیع درحقیقت اس شخص کی طرف سے نہیں ہوتی جو مال کا مالک نہیں، بلکہ اصل مالک کی طرف سے ہوتی ہے، اس لیے یہ صورتیں شرعاً جائز ہیں۔
دوسری صورت:
کوئی شخص کسی چیز کا سودا کرے، مگر وہ چیز معین نہ ہو، بلکہ اس کی صفات، مقدار اور خصوصیات تفصیل سے بیان کی جائیں، اور سامان مستقبل میں فراہم کیا جانا ہو، تو یہ معاملہ بیعِ سلم کے حکم میں آتا ہے۔بیعِ سلم شریعت میں جائز ہے، بشرطیکہ اس کی تمام شرائط پوری کی جائیں۔وہ یہ ہیں:
۱۔ جس چیز کا سودا کیا جائے، اس کی ہر صفت کو تفصیل سے بیان کیا جائے، یہاں تک کہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔
۲۔ قیمت کا مکمل تعین کیا جائے۔
۳۔ وقت کا بالضبط تعین کیا جائے کہ کتنے وقت میں چیز تیار کر کے خریدار تک پہنچائی جائے گی۔
۴۔ جس چیز کا سودا کیا جا رہا ہو، فروخت کنندہ کے پاس اس کو مہیا کرنے کی استطاعت ہو۔
۵۔ قیمت مجلسِ عقد (جس مجلس میں خرید و فروخت کا معاہدہ ہو رہا ہو) میں فروخت کنندہ مکمل طے شدہ قیمت پر قبضہ حاصل کرے۔
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
﴿ مَنْ أَسْلَفَ فِي شَيْءٍ فَفِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ، إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ ﴾(صحیح بخاری: 2240)
یعنی:جو شخص کسی چیز میں سلم کرے تو وہ معلوم پیمانے، معلوم وزن اور معلوم مدت کے ساتھ کرے۔
لہٰذا خلاصہ یہ ہے کہ:
- معین چیز کو بغیر ملکیت اور قبضے کے فروخت کرنا اصلًا ناجائز ہے۔
- بطور ایجنٹ یا مشارک کام کرنے کی صورت میں ڈراپ شپنگ جائز ہے۔
- صفات کے ساتھ مستقبل کی فراہمی کا سودا، اگر بیعِ سلم کی تمام شرائط کے مطابق ہو، تو وہ بھی شرعاً جائز ہے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی