بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
خواتین کا نرسننگ کا کام کرنا

خواتین کا نرسننگ کا کام کرنا

سوال: خواتین کا نرسنگ کی جاب کرنا کیسا ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

واضح رہے کہ اسلام نے عورتوں کے لیے ان کی اصل جگہ گھر بنائی ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

[ وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ]

یعنی: اور اپنے گھروں میں ٹکی رہو اور پہلی جاہلیت کے زینت ظاہر کرنے کی طرح زینت ظاہر نہ کرو۔(سورۃ الاحزاب:33)

اور بلا کسی اشد مجبوری یا حاجت کے بغیر گھر سے باہر نکلنے پر پابندی لگائی،جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:

[ قَدْ أَذِنَ اللَّهُ لَكُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَوَائِجِكُنَّ]

یعنی: تمہیں اجازت دی گئی ہے کہ تم اپنی ضروریات کے لئے باہر نکل سکتی ہو ۔(صحیح بخاری:5237)

یہ پابندی اس وجہ سے لگائی گئی کہ اس کی عزت اور عفت کا تحفظ یقینی بنایا جائے،جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:

[ الْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ فَإِذَا خَرَجَتْ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ]

یعنی: عورت (سراپا) پردہ ہے، جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کو تاکتا ہے۔(سنن ترمذی:1173)

یہ بات واضح ہے کہ دنیا نے جس تیزی سے ترقی کی ہے اسی تیزی کے ساتھ امراض میں بھی اضافہ ہوا ہے، اور ان امراض  نے بلااستثناء مرد و خواتین کو نشانہ بنایا ہے، اسی بنیاد پر ضروری ہے کہ نرسنگ اور ڈاکٹری کے پیشے میں خواتین بھی بڑھ چڑھ کر شرعی  حدود میں حصہ لیں تاکہ خواتین کو اپنے علاج معالجے کے لیے مرد ڈاکٹر ز کے پاس نہ جانا  پڑے۔

صورت مسؤلہ میں خواتین کا نرسنگ کا  پیشہ اختیار کرنا بلکل درست ہے، بلکہ فی زمانہ افضل اور مطلوب بھی ہے، تاکہ خواتین مریضوں کے لیے آسانی ہوسکے، البتہ اس سلسلے میں کچھ شروط کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے  تاکہ خواتین کی عزت اور عفت کی حفاظت ممکن ہوسکے۔

۱۔ خواتین ایسی جگہ نرسنگ اوور ڈاکٹری کی جاب کریں جاں صرف خواتین کا علاج ہی ہوتا ہو، مردوں کا داخلہ وہاں ممکن نہ ہو۔

اگر مذکورہ شرط کا ایفاء ممکن نہ ہو جیسا کہ فی زمانہ صورت حال ہےتو پھر ان  امور کو یقینی بنایا جائے:

۱۔خواتین مکمل حجاب کی حالت میں ہوں۔
۲۔غیر مرموں سے  کوئی بات چیت نہ ہو، اگر کوئی شدید ضرورت ہو تو لہجہ ایسا نہ ہو جس مرد اس کی طرف متوجہ ہوں۔

۳۔حتی الامکان مردوں کے ساتھ اختلاط سے بچا جائے۔

۴۔صرف خواتین مریضوں کا علاج ہی کریں۔

۵۔ کسی غیر محرم ڈاکٹر/سٹاف/  مریض کے ساتھ خلوت(اکیل ) نہ ہو۔

خلاصہ کلام:خواتین کا نرسنگ اور ڈاکٹری کی جاب کرنا افضل اور مطلوب ہے، مذکورہ شروط کا خیال  رکھ کر یہ کام کیا جاسکتا ہے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔