سوال: کوٹ پینٹ ، ٹائی وغیرہ کا حکم؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
اسلام چونکہ ایک بین الاقوامی مذہب ہے اور قیامت تک کے لیے اس میں اپنے ماننے والوں کے لیے ہدایات موجود ہیں، اسی وجہ سے اسلام نے اپنے ماننے والوں کو کسی خاص قسم کے لباس کا پابند نہیں کیا، بلکہ یہ اجازت دی ہے کہ جیسے کسی قوم کی ثقافت اور کلچر ہو وہ لباس پہنا جاسکتا ہے، البتہ اس کے لیے چند شروط عائد کی ہیں، اگر لباس میں یہ شروط موجود ہوں تو وہ لباس پہنا جاسکتا ہے:
۱۔لباس ایسا نہ ہو جو کہ کفار کے مشابہ ہو، یعنی ان کے ساتھ خاص ہو، کیونکہ ایسے امور جو کہ کفار کے ساتھ خاص ہوں ان میں ان کی مشابہت اختیار کرنا ممنوع ہے، جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:
[ مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ]
یعنی:” جس نے کسی قوم سے مشابہت اختیار کی تو وہ انہی میں سے ہوا ۔ “(سنن ابی داؤد:4031)
۲۔لباس ساتر ہو، یعنی مرد کا لباس ناف سے لے گھٹنے تک ہو،جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:
[ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ]
یعنی: ران قابل ستر ہوتی ہے ( اسے چھپانا چاہیئے ) ۔(سنن ابئ داؤد:4014)
نیز عورت کا لباس ایسا ہونا چاہیئے کہ اس کا مکمل جسم ڈھک جائے، سوائے پیر اور ہتھیلیوں کے،جیسا کہ نبیﷺ کا ارشاد ہے:
[ الْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ]
یعنی: عورت (سراپا) پردہ ہے۔(سنن ترمذی:1173)
۳۔ لباس چست نہ ہو کہ جسم کے خدو خال نظر آئیں، کیونکہ لباس کامقصد جسم کو چھپانا ہے۔
۴۔خواتین کا لباس مردوں سے مشابہ نہ ہو اور مردوں کا لباس خواتین سے مشابہ نہ ہو، جیسا کہ سيدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
[ لَعَنَ رَسُولُﷺ المُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَالمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ]
یعنی: رسول اللہﷺنے ان مرودوں پر لعنت بھیجی جو عورتون جیسا چال چلن اختیار کریں اور ان عورتوں پر لعنت بھیجی جو مردوں جیسا چال چلن اختیار کریں ۔(صحیح بخاری:5885)
۵۔ مردوں کا لباس کسی حرام چیز پر نہ ہو، مثلاً ریشم، نیز لباس کا رنگ عصفر(سرخی اور زردی کے درمیان کا رنگ) نہ ہو۔
اگر پینٹ شرٹ پہنتے وقت ان شرائط کو مکمل کیا جائے تو اس کے پہننے میں کوئی حرج معلوم نہیں ہوتی، ان شاء اللہ۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی