سوال: میں نے آج سے بارہ سال قبل اپنی اہلیہ کو یہ کہا تھا کہ میں آپ کو طلاق دے دوں گا، یا یوں کہا کہ ہم تین الفاظ کہہ دینگے ، یہ بات میں حلفاً کہتا ہوں، میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کہنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟ جبکہ بیوی کا کہنا ہے کہ میں نے طلاق دی ہے ، اس حوالے سے کس کی بات تسلیم کی جائے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسئولہ میں بر صحت سوال
سائل کے حلفیہ بیان کے مطابق آج سے 12سال قبل اپنی اہلیہ سے جھگڑے کے دوران اس قسم کے الفاظ کہ میں آپ کو طلاق دے دوں گا،یا یوں کہنا کہ ہم تین الفاظ کہہ دینگے ۔اس قسم کے الفاظ کی ادائیگی سےشرعاً یعنی قرآن و سنت کے نصوص کی روشنی میں طلاق واقع نہیں ہوئی۔اور نہ ہی کسی بھی مکتب فکر سے اس کی تائید ہوتی ہے۔اب اگر زوجین یعنی میاں بیوی میں اس بات پر اختلاف ہوجائے کہ بیوی کہے کہ انہوں نے طلاق دی ہے ۔یعنی ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘ یہ لفظ کہا ہےاور شوہر کا حلفیہ بیان یہ ہے کہ میں نے یہ کہا ہےکہ’’ میں طلاق دے دوں گا ‘‘۔تواس صورت میں درج ذیل دلائل کی بناء پر مرد کی بات کا اعتبار ہوگا۔
چناچہ ارشاد باری تعالٰی ہے :
[وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ] (البقرۃ : 231)
یعنی : اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو ۔
اسی طرح فرمان باری تعالٰی : [ الَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْكُمْ مِنْ نِسَائِهِمْ] (المجادلة :2)
یعنی : تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں۔
اسی طرح فرمان باری تعالٰی :
[لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ ] (البقرۃ :226)
یعنی : جو لوگ اپنی بیویوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا لیں۔
ان آیات کے ترجمے سے واضح ہوا کہ یہ تمام صیغے (الفاظ ) مذکر کے ہیں،یعنی مرد کے ہاتھوں میں یہ معاملات ہیں ،لہذا مرد ہی کی بات کااعتبار ہوگا نیز ارشاد باری تعالٰی ہے:
[الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ] (النساء:34)
یعنی : مرد عورت پر نگران ہے ۔
اور ان مذکورہ آیات کا تقاضہ بھی مرد کی اولیت کی طرف ہے ،البتہ اگر عورت اپنے بیان میں کوئی مضبوط گواہ رکھتی ہے، تو پھر گواہوں کے بیان کی روشنی میں اس کی بات کا اعتبار ہو گا،بالفرض اگر عورت حق پربھی ہو ،گواہ بھی نہ ہو اور مرد غلط بیانی کر رہا ہو تب بھی فتوٰی اسی پر ہوگا ،کہ طلاق واقع نہیں ہوئی ،البتہ عورت کے لئے شرعاًخلع لینے کا اختیار موجودہے ۔