سوال :کیا اسلام نیٹ ورک مارکیٹنگ کی اجازت دیتا ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
مروجہ نیٹ ورک مارکیٹنگ (Network Marketing)یا دیگر نام سے جیسے ملٹی لیول مارکیٹنگ(Multi-Level Marketing) بنیادی طور سے اس میں پیرامڈ اسکیم (Pyramid Scheme) کے تحت کام ہوتا ہے، پہلے ایک ممبر ہوتا ہے، پھر اس سے متصل ممبران بڑھتے اورپھیلتے چلے جاتے ہیں۔ اس کا طریقہٴ کار یہ ہے کہ کمپنی کی مصنوعات کھلی مارکیٹ میں فروخت نہیں ہوتیں؛ بلکہ جو شخص کمپنی کا ممبر بنتا ہے،اسی کو کمپنی کی مصنوعات فراہم کی جاتی ہیں، خریدار کو خریدی ہوئی اشیاء تو ملتی ہیں، ساتھ ہی کمپنی اس کو ترغیب دیتی ہے کہ آپ اپنے تحت مزید ممبر بنائیے، کمپنی کا سامان فروخت کرنے میں تعاون کیجئے، لہٰذا خریدار جن لوگوں کو ممبر بناتا ہے، اور کمپنی سے سامان خریدنے کے لیے آمادہ کرتاہے،اس پر کمپنی کمیشن پہلے خریدار کو (Commission) دیتی ہے، پھر یہ کمیشن صرف ان خریداروں تک محدود نہیں رہتا، جن کو اس نے خریدار بنایا ہے؛ بلکہ اس کے ذریعہ بنے ہوئے خریداروں سے آگے جتنے خریدار تیار ہوئے ہیں، ان کی خریداری پر بھی پہلے شخص کو کمیشن ملتا رہتا ہے، اور مرحلہ وار یہ سلسلہ آگے تک چلاجاتا ہے۔
یہ طریقہ کار کئی ایک شرعی قباحتوں کی وجہ سے حرام ہے، جن میں چند اہم ترین ذیل میں ذکر کیئے جاتے ہیں۔
- اس میں مصنوعات بیچنا اصل مقصد نہیں ہے، بلکہ ممبر سازی کے ذریعے کمیشن در کمیشن کاروبار چلانا اصل مقصد ہے جو کہ جوئے کی ایک نئی شکل ہے،وہ اس طرح کہ جیسے جوئے میں پیسے لگاکر یہ امکان بھی ہوتا ہے کہ اسے کچھ نہ ملے اور یہ امکان بھی ہوتا ہے کہ اسے بہت سارے پیسے مل جائیں، اسی طرح مذکورہ کمپنی سے منسلک ہونے کے بعد کام کرنے میں یہ امکان بھی ہے کہ سائل کو کچھ نہ ملے (انفرادی طور پر مطلوبہ پوائنٹس تک نہ پہنچنے کی وجہ سے) اور یہ امکان بھی ہے کہ اسے بہت سے پوائنٹس مل جائیں (انفرادی طور پر اور ٹیم کی شکل میں مطلوبہ پوائنٹس تک پہنچنے کی وجہ سے)۔
- اس میں سود کی صورت موجود ہے، نیٹ ورک مارکیٹنگ میں ممبری فیس کے طور پر تھوڑا سرمایہ لگاکر پیسوں سے پیسے حاصل کرنےکے لیے سامان کو بطور حیلہ اختیار کیاجاتا ہے، ہر ممبر کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ اپنے نیچے زیادہ سے زیادہ ممبران آجائیں تاکہ اچھی خاصی رقم کسی محنت ومشقت کے بغیر کمیشن کے طور پر ان کے پاس جمع ہوجائے، حالانکہ پیسے سے پیسا بنانا سود ہے، اس طرز تجارت کو ربا سے کافی مشابہت ہے، اور سود حرام ہے:
”أَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا“ (بقرہ:۵۷۲)
ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ نے خرید و فروخت کو حلال اور سود کو حرام قراردیا ہے“۔
اس میں یہ خرابی بھی ہے کہ ممبر بننے کا سلسلہ کبھی نہ کبھی آکر رکے گا ضرور، جس ممبر پر یہ رکے گا اسکی ساری سرمایہ کاری ڈوب جائے گی، اور یہ دھوکہ ہے، جس سے نبیﷺ نے منع فرمایا ہے۔(جامع ترمذی: 1230)
خلاصہ کلام: یہ تجارت سود سے کافی مشابہت، جوا، دھوکہ شامل ہونے کی وجہ سے حرام ہے، بلکہ ماہرین معیشت نے نظام کی تائید اسکو سود سے زیادہ خطرناک اور ملکی معیشت کے لیے “زہر قاتل” قرار دیا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے مصنوعی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے، اور قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے۔ ایسا کرنے کا مطلب یہی ہوگا کہ کمپنی کے ذمہ داران اور چند دیگر لوگوں کے مفاد کی خاطر عوام کو دھوکہ میں مبتلا ہونے کی تائید کی جائے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالی اعلم بالصواب
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی