سوال: کرایہ پر لی گئی چیز کو کسی اورشخص کو آگے مزید کرائے پر دینا کیسا ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
واضح رہے کہ کرایہ پر کوئی چیزلینے سے انسان اس کی منفعت /فائدہ کا مالک بن جاتا ہے، لہذا اب اگر وہ کسی اور کو یہ اسی کرائے یا اس سے زیادہ کرائے پر دینا چاہے تو دے سکتا ہے، بشرطیکہ:
- کرائے کی مدت طے کی جائے، اور وہ مدت اصل مالک کی طرف سے مقرر کردہ مدت کے اندر اندر ہی ہو۔
- کرائے کی رقم طے ہو
- اگر سامان میں کوئی نقصان نئے کرائے دار کی کوتاہی سے ہو تو اس کی ذمےداری نئے کرائے دار پر ہوگی ورنہ اصل مالک اس کی بھرپائی پہلے کرائے دار سے وصول کرسکتا ہے۔
البتہ اگر مالک نے معاہدے میں صاف شرط لگا دی ہو کہ “اس چیز سے صرف تم ہی فائدہ اٹھاؤ گے، کسی اور کو نہیں دے سکتے”، تو پھر اس شرط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چیز کو آگے کرائے پر دینا جائز نہیں ہوگا، کیونکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ﴾(المائدہ:01)
یعنی:اے ایمان والو! اپنے معاہدوں کو پورا کرو۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی