سوال: قبلہ کی تعیین میں آلات جدیدہ کا استعمال کرنا کیسا ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
واضح رہے معاملات میں اصل اباحت ہے، اور اسلام نے بڑھتے ہوئے دور کی ٹیکنالوجی کے استعمال سے منع نہیں کیا ہے، بلکہ ایسی امور کی طرف توجہ دلائی ہے انسانی و شرعی فائدہ ہوتا ہو، جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:
[احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَلَا تَعْجَزْ ](صحیح مسلم:6774)
یعنی: جس چیز سے تمہیں (حقیقی) نفع پہنچے اس میں حرص کرو اور اللہ سے مدد مانگو اور کمزور نہ پڑو (مایوس ہو کر نہ بیٹھ) جاؤ۔
لہذا صورت مسؤلہ میں قبلے کی تعین اور تلاش کے لیے آلاتِ جدیدہ کا استعمال کرنااگر اہلِ علم و تجربہ کی رائے سے یہ ثابت ہو جائے کہ یہ آلہ قبلہ کی درست سمت دکھاتا ہے، تو اس کا استعمال جائز ہوگا، کیونکہ اس میں صحیح سمت کی تعیین کا امکان بہت حد تک قوی ہوجاتا ہے، نیز بعض اوقات آلات میں غلطی استعمال کرنے والے کی کوتاہی یا آلہ کی خرابی کی وجہ سے ہوتی ہے، نہ کہ ٹیکنالوجی میں نقص کی وجہ سے۔ لہذا اگر ٹیکنالوجی ماہرین اور اہلِ علم اس کے استعمال پر مطمئن ہوجائیں تو اس کا استعمال کیا جاسکتا ہے، اور اگر انسان کے پاس قبلہ کی تعیین کے لیے ان آلات کے علاوہ کوئی اور صورت نہ ہو تو ان کا استعمال واجب بھی ہوسکتا ہے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی