سوال: زکوٰة سے غریبوں کے لیے گھر بنانا یا خریدنا کیسا ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
واضح رہے کہ زکوٰۃ کے مصارف میں سے فقراء اور مساکین بھی ہیں،جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:[ إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ](سنن ابی داؤد:1641)
یعنی: صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہیں۔
البتہ علماء میں اس بات اختلاف ہے کہ فقراء اور مساکین کو کتنی مقدار زکوٰۃ میں سے دی جاسکتی ہے،دلائل کے مقرانے کے بعد جو موقف راجح معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ زکوٰۃ کا مقصد فقیر /مسکین کو خود کفیل کرنا اور اس کو زکوٰۃ کے مطالبے سے آزاد کرنا ہے، جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:
﴿ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ ………رَجُلٌ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ ……﴾(التوبة: 103)
یعنی:تین قسم کے افراد میں سے کسی ایک کے سوا اور کسی کے لئے سوال کرناجائز نہیں:(ان میں سے ایک )وہ آدمی جس پر کوئی آفت آپڑی ہو جس نے اس کا مال تباہ کردیا ہو،اس کے لئے سوال کرنا حلال ہوجاتا ہے یہاں تک کہ وہ زندگی کی گزران درست کرلے۔
اس حدیث میں نبیﷺ نے سوال کرنے کی اجازت تب تک دی ہے جب تک وہ اپنی بنیادی ضرورت پوری نہ کر لیں، پھر عزت کے ساتھ زندگی گزار سکے اور دوبارہ سوال کرنے کی ضرورت باقی نہ رہے۔
اس حدیث کی روشنی میں اگر کوئی شخص یا خاندان واقعی گھر سے محروم ہو اور کرایہ یا عارضی رہائش سے شدید تنگی میں ہو، تو اسے زکوٰۃ سے گھر خریدنے میں مدد دی جا سکتی ہے، بشرطیکہ:
- فقیر ایسا نہ ہو جو کمائی پر قادر ہو،اگر کوئی شخص تندرست اور کمائی کے قابل ہے، اور اس کی آمدنی سے اس کی ضروریات (کھانا، لباس،گھر کا کرایہ)پوری ہو سکتی ہیں، تو اس کے لیے زکوٰۃ سے گھر خریدنا جائز نہیں۔البتہ اگر وہ کمائی کے آلات یا سامان سے محروم ہو تو زکوٰۃ سے اس کے لیے آلاتِ کسب خریدنا جائز ہے۔
- گھر کی قیمت مناسب ہو اسراف (فضول خرچی) ہو نہ بخل،اعتدال اور ضرورت کے مطابق گھر ہونا چاہیے۔
- اگر ایسے فوری اور شدید تقاضے موجود ہوں جیسے کھانا، کپڑا، دوا یا بنیادی پناہ، تو پہلے ان پر زکوٰۃ خرچ کی جائے،کیونکہ یہ ضروریات گھر بنانے سے زیادہ فوری اور اہم ہیں۔
تنبیہ بلیغ: اگر غالب گمان یہ ہو کہ فقیر ہر سال کرایہ دینے کے قابل ہو جائے گا،تو بہتر یہی ہے کہ زکوٰۃ کے مال سے گھر خریدنے کے بجائے کرایہ میں مدد دی جائے، تاکہ زکوٰۃ سے زیادہ اور دیگرفقراء مستفید ہو سکیں۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی