سوال: زکوٰة سے فقراء اور مساکین کا علاج کرانا کیسا ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ بر صحت سوال
واضح رہے کہ زکوٰۃ کے مصارف میں سے فقراء اور مساکین بھی ہیں،جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
[ إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ](سورۃ التوبہ:60)
یعنی: صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہیں۔
اگر کوئی شخص علاج کا محتاج ہو اور اس کے پاس علاج کی قیمت موجود نہ ہو تو وہ شرعاً فقیر شمار ہوگا، اور اس پر فقراء و مساکین کے حصے سے زکوٰة خرچ کی جاسکتی ہے۔ بلکہ ایسا شخص دوسرے محتاجوں سے زیادہ حق رکھتا ہے، کیونکہ وہ غربت کے ساتھ بیماری اور علاج کی ضرورت کا بھی سامنا کر رہا ہے۔ زکوٰة کا مقصد فقیر کی ضرورت پوری کرنا ہے، لہٰذا جس کی حاجت زیادہ شدید ہو، وہ اس کا زیادہ مستحق ہے۔البتہ غریبوں کے علاج پر زکوٰة خرچ کرنے کے لیے چند شرعی ضوابط ضروری ہیں:
- اگر اس کا علاج کہیں مفت میسر ہو تو زکوٰة سے علاج کے لیے رقم دینا جائز نہیں۔ یعنی اگر سرکاری یا فلاحی اسپتال میں بغیر کسی سخت شرط کے مؤثر علاج ممکن ہو تو زکوٰة استعمال نہیں کی جائے گی۔
- زکوٰة صرف ایسے علاج پر خرچ کی جائے گی جو واقعی ضرورت ہو۔ محض زیبائش یا تجملاتی مقاصد کے لیے کیے جانے والے علاج پر، یا ایسی معمولی بیماریوں پر جن کے چھوڑ دینے سے کوئی نقصان نہ ہو، زکوٰة خرچ کرنا جائز نہیں۔ اس لیے کہ زکوٰة بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے مقرر کی گئی ہے۔
- علاج کی لاگت میں فضول خرچی اور اسراف سے بچنا ضروری ہے۔ اگر کم خرچ میں مناسب اور مؤثر علاج ممکن ہو تو زیادہ مہنگے طریقے اختیار نہیں کیے جائیں گے، کیونکہ مقصد مرض کو دور کرنا ہے۔ اس سے زائد خرچ کرنا اسراف ہے،جو کہ حرام ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّالْمُسْرِفِينَ﴾(سورۃ الأنعام: 141)
یعنی:اور فضول خرچی نہ کرو، بے شک اللہ فضول خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی