بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
این جی اوز کو زکوٰۃ کی مد میں سے تنخواہ دینا

این جی اوز کو زکوٰۃ کی مد میں سے تنخواہ دینا

سوال: پرائیوٹ اداروں میں زکوٰۃ جمع کرنے والوں کو زکوٰۃ کی رقم سے اجرت دینا کیسا ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ بر صحت سوال

     واضح رہے  کہ زکوٰۃ کے مصارف میں سے”عاملین علیھا ” شامل ہیں،جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

[ إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ  وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا](سورۃ التوبہ:60)

یعنی: صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہیں اور ان کے وصول کرنے والوں کے لئے۔

یعنی وہ لوگ بھی جو زکوٰۃ کی وصولی، اس کی دیکھ بھال اور اس کو حق دار تک پہنچانے کا کام کرتے ہیں تو ان کو بھی اس محنت کے عوض اجرت زکوٰۃ کے مال میں سے دی جاسکتی ہے۔ لیکن ان عاملین سے مرادصرف اور صرف  حکومت کے وہ اہلکار جو زکٰو ۃ و صدقات کی وصولی و تقسیم اور اس کے حساب کتاب پر معمور ہوں۔

لیکن اگر کوئی مالدار شخص کسی کو کہے:  “یہ میری زکوۃ ہے اور غریبوں میں اسے تقسیم کر دو” تو یہ شخص زکوۃ ادا کرنے والے کا نائب /وکیل ہے، زکاۃ پر مامور نہیں ہے، اس کی وجہ یہ  ہے کہ اس میں حرف جر: “عليها” استعمال ہوا ہے،جس میں ولایت کا مفہوم ہے ، “فیھا” استعمال نہیں ہوا، یعنی انہیں اسی وقت دیا جائے گا جب انہیں حکومت کی طرف سے زکاۃ پر مامور کیا جائے، وگرنہ  انہیں ” وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا ” کی مد میں کچھ نہیں ملے گا۔

چنانچہ اگر کوئی خیراتی ادارہ اپنی طرف سے کچھ ملازمین کی اس کام پر ڈیوٹی لگائے تو ایسے لوگوں کو یا تو بغیر کسی معاوضے کے زکاۃ جمع کرنے کا کام کرنا چاہیے، یا پھر انہیں یہ ادارہ اپنی طرف سے تنخواہیں دے، لیکن وہ ادارے کو ملنے والے عام صدقات و عطیات میں سے ہو یا زکوۃ سے ہٹ کر دیگر ذرائع آمدن سے، چنانچہ انہیں ” وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا ” کی مد میں کچھ نہیں ملے گا۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

 

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔