سوال: کیا اسلامی مہینوں کے آغاز کے لیے جدید آلات سے روئیت کرنے کا کیا حکم ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسئولہ میں بر صحت سوال
واضح رہے کہ اصولی طور پر اسلام جدید آلات کے استعمال اور ان سے مدد لینے سے منع نہیں کرتا ، کیونکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا﴾(سورۃ البقرۃ:29)
یعنی:وہی ہے جس نے زمین میں جو کچھ ہے سب تمھارے لیے پیدا کیا۔
چاند کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی عبادات ، حج،رمضان، عید کے موسم کی ابتداء و انتہاء کےلیے مقرر فرمایا ہے،جیسا کہ ارشادِباری تعالیٰ ہے:
﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ ۖ قُلْ هِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ﴾(سورۃ البقرۃ:189)
یعنی: لوگ آپ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ یہ لوگوں (کی عبادت) کے وقتوں اور حج کے موسم کے لئے ہے۔
چاند کی رویت کے لیے شریعت نے چاند کو دیکھنے کو معیار بنایا ہے، جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:
﴿صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غُبِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ﴾(صحیح بخاری:1909)
یعنی: چاند ہی دیکھ کر روزے شروع کرو اور چاند ہی دیکھ کر روزہ موقوف کرو اور اگر ابر ہو جائے تو تیس دن پورے کرلو۔
لہذا چاند کا اعتبار تب ہی کیا جائے گا جب وہ انسانی آنکھ سے نظر آجائے،البتہ جو سائنسی آلات ہیں ان سے چاند کی رویت میں مدد لی جاسکتی ہے، لیکن اصل اعتبار اسی وقت ہوگا جب انسانی آنکھ سے چاند نظر آجائے، کیونکہ نبیﷺ کے زمانے میں بادل ہونے کی صورت میں حساب و کتاب سے چاند کی موجودگی کا پتا لگایا جاسکتا ہے، لیکن نبیﷺ نے رویت کو ہی بنیاد بنایا اور اسی بنیاد پر روزہ رکھنے اور چھوڑنے کاحکم دیا۔
ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت پر عمل کی توفیق عنایت فرمائے۔آمین
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی