سوال:کیا مکہ میں مقیم شخص حج کے موقع پر منی میں نمازیں قصر کرے گا یا مکمل نماز ادا کرے گا؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
حج کے موقع پر شریعت نے مسلمانوں کو منی ، عرفات اور مزدلفہ میں نمازوں کو قصر (چار رکعات والی نمازوں میں چار کے بجاۓ دو رکعات ادا کرنے) کا حکم دیا ہے۔جہاں تک بالخصوص اہل مکہ کی بات ہے تو نبی علیہ السلام نے حجۃ الوداع کے موقع پرقصر نماز ادا کری اور آپ کی اقتداء میں تمام صحابہ کرام نے قصر نماز ادا کری خواہ ان کا تعلق مکہ سے ہو یا کسی اور علاقے سے۔
البتہ یہاں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اس زمانے میں منی کا علاقہ مکہ مکرمہ سے الگ تھلگ واقع تھا جس کے لیے سفر جیسا اہتمام کیا جاتا تھا، البتہ موجودہ زمانے میں مکہ میں آبادی اور رقبے کے پھیلاؤ کی وجہ سے منی اب پوری طرح مکہ شہر کا حصہ ہے۔
نیز یہ کہ حج کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نمازوں کو قصر کرنا سفر کی وجہ سے تھا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام صحابہ کے ہمراہ حالت سفر میں تھے۔
لہذا وہ حجاج کرام جو مکہ میں سکونت پذیر ہیں، وہ اس (نماز قصر کرنے کے)حکم سے مستثنی ہیں اور وہ منی، عرفات اور مزدلفہ میں نمازوں کو قصر کرنے کے بجاۓ مکمل ادا کریں گے ، کیونکہ وہ دیگر حجاج کی طرح مسافر کے زمرے میں نہیں آتے بلکہ ان کا شمار مقیم میں ہوتا ہے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی