سوال: کیا اس بات کے شرعی دلائل موجود ہیں کہ جناب محمد رسول اللہ ﷺ تمام رسولوں اور نبیوں کے خاتم ہیں؟ کیونکہ بظاہر قرآن وحدیث میں جو دلائل ملتے ہیں وہ صرف ختمِ نبوت پر دلالت کرتے ہیں، ختمِ رسالت پر کوئی واضح اور صریح دلیل نظر نہیں آتی، تو کیا رسالت کا دروازہ بند ہونے پر بھی شرعی دلیل موجود ہیں ؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
صورتِ مسئولہ میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ شریعتِ اسلامیہ میں رسالت، نبوت سے الگ کوئی مستقل منصب نہیں، بلکہ ہر رسول نبی ہوتا ہے اور نبوت کے بغیر رسالت کا تصور شرعاً اور عقلاً ممکن ہی نہیں۔ اس بنا پر جب نبوت کا دروازہ بند ہو گیا تو رسالت کا دروازہ بدرجۂ اولیٰ بند ہو گیا۔قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ، وَلَـٰكِن رَّسُولَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ﴾ [سورۃ الأحزاب: 40]
محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں اور لیکن وہ اللہ کے رسول اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والا ہے اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
اس آیتِ کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کو صراحت کے ساتھ رسول اللہ فرمایا گیا ہے اور ساتھ ہی خاتم النبیین قرار دیا گیا، جس کا لازمی اور قطعی مفہوم یہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ کوئی رسول، کیونکہ رسول بننے کے لیے نبی ہونا شرطِ لازم ہے، اور جب اصل ہی منقطع ہو گئی تو فرع کا باقی رہنا محال ہے۔نیز رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:
إِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ، فَلَا رَسُولَ بَعْدِي وَلَا نَبِيَّ [مسند احمد، سنن ترمذی]
ترجمہ: بے شک رسالت اور نبوت دونوں ختم ہو چکی ہیں، پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا اور نہ کوئی نبی۔
یہ حدیث ختمِ رسالت پر صریح، واضح اور نہ قابلِ تاویل نص ہے، جس کے بعد کسی شبہ یا احتمال کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔مزید برآں، امتِ مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ جناب محمد رسول اللہ ﷺ آخری نبی بھی ہیں اور آخری رسول بھی، اور عہدِ صحابہ رضی اللہ عنہم سے لے کر آج تک جس شخص نے آپ ﷺ کے بعد نبوت یا رسالت کا دعویٰ کیا، اسے بالاتفاق کذاب اور مرتد قرار دیا گیا، جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ختمِ نبوت اور ختمِ رسالت میں تفریق کرنا امت کے فہم و اجماع کے خلاف ہے۔
لہٰذا یہ کہنا کہ دلائل صرف ختمِ نبوت پر ہیں اور ختمِ رسالت پر نہیں، درست نہیں، بلکہ ختمِ نبوت ہی ختمِ رسالت کو مستلزم اور شامل ہے، اور شریعت میں ان دونوں کے درمیان اس طرح کی تفریق معتبر نہیں۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الإفتاء،المدينہ اسلامک ریسرچ سینٹر