بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
چوری کے مال سے سرمایہ کاری کرنے پر منافع

چوری کے مال سے سرمایہ کاری کرنے پر منافع

سوال: چوری کے مال سے سرمایہ کاری کرنے پر منافع کس تناسب سے تقسیم ہوگا؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

          واضح رہے کہ چوری کرنا حرام اور گناہ ہے ،اگر  کوئی چیز چوری کرلی تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر چوری کا سامان موجود ہو تو وہ مالک کو واپس کیا جائے اگر سامان  موجود نہ ہو تو اس کی قیمت مالک کو ادا کی جائے ،چوری کے سامان یا  اس کی رقم سے  کاروبارکرنا یا کسی اور طریقہ  سے پیسے کمانا شرعا جائز نہیں ہے ، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾(سورۃ النساء:29)

یعنی: اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے اموال کو باطل طریقے سے مت کھاؤ۔

لہذا چوری کا مال اسی مالک کا ہے جس سے وہ لیا گیا ہو،اس مال میں نہ چور کا حق ہے، نہ اس شخص کا جس کے ہاتھ میں یہ مال آیا،اس لیے چوری کے مال سے کی گئی تجارت یا سرمایہ کاری سے پیدا ہونے والا کوئی منافع شرعاً معتبر نہیں ہوگا اور اصل مالک کو وہ مال واپس دینا واجب ہے، نیز اس بنیاد پر جو منافع حاصل ہوا ہے اس میں بھی احتیاط یہی ہے کہ وہ بھی اصل مالک کو ہی واپس کیا جائے۔

ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔