بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
بدعتی امام کے پیچھے نماز کا حکم

بدعتی امام کے پیچھے نماز کا حکم

سوال: کیاڈیوٹی میں کوتاہی تنخواہ پر اثر انداز ہوتی ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

امامت ایک عظیم دینی ذمہ داری ہے، اس لیے شریعت نے حکم دیا ہے کہ امامت کے لیے ایسے شخص کا انتخاب کیا جائے جو قرآن و سنت کا زیادہ علم رکھنے والا، سنت کا پابند اور بدعات سے دور ہو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ…» (صحیح مسلم: 673)

لوگوں کی امامت وہ شخص کرائے جو اللہ کی کتاب کا زیادہ پڑھنے والا ہو، پھر اگر قراءت میں برابر ہوں تو سنت کا زیادہ علم رکھنے والا۔
لہٰذا سنت کا پابند اور بدعات سے اجتناب کرنے والا امام ہی امامت کا زیادہ مستحق ہے، اور اسی کا انتخاب کرنا چاہیے۔البتہ اگر کسی جگہ ایسا امام میسر نہ ہو، تو پھر بدعت کی نوعیت دیکھی جائے:

اگر امام کی بدعت، بدعتِ مکفرہ نہ ہو، یعنی وہ ایسی بدعت کا مرتکب نہ ہو جو قرآن و سنت کی روشنی میں صریح کفر یا شرک تک پہنچاتی ہو، تو اس کے پیچھے نماز ادا ہو جائے گی اور اس کے اعادے کی ضرورت نہیں ہوگی؛ کیونکہ جماعت کی اہمیت بہت زیادہ ہے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بعض ظالم اور فاسق حکمرانوں کے پیچھے بھی جماعت ترک نہیں کی۔

البتہ اگر امام کی بدعت، بدعتِ مکفرہ ہو، یعنی وہ ایسے عقائد رکھتا ہو یا ایسے شرکیہ و کفریہ اعمال کا مرتکب ہو جو اسلام سے خارج کرنے والے ہوں، تو ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں؛ کیونکہ کافر کی امامت صحیح نہیں ہوتی۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔