بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
دورانِ ڈیوٹی آفس میں کوئی اور کام کرنا

دورانِ ڈیوٹی آفس میں کوئی اور کام کرنا

سوال: کیاڈیوٹی میں کوتاہی تنخواہ پر اثر انداز ہوتی ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

واضح رہے کسی بھی جگہ ملازمت کرنا والے کو اجیر کہا جاتا ہے، اور اس کو تنخواہ ملتی ہے وہ اس کے وقت کی  اجرت ہوتی ہے، لہٰذا جتنا وقت مقرر ہے ، ملازم کا اس وقت میں  مالک کی طرف سے دیا گیا کام کرنا ضروری ہے اور اس میں کوتاہی کرنا  جائز نہیں ہے۔ کیونکہ وقت اور کام دونوں کمپنی کی طرف سے ملازم کے پاس امانت  ہوتی ہیں، اور امانت کی پاسداری ضروری ہے، جو کہ کئی شرعی نصوص سے ثابت ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

[ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا]

یعنی: اللہ تعالیٰ تمہیں تاکیدی حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انہیں پہنچاؤ۔(سورۃ النساء:58)

نیز امانت میں خیانت کرنا منافقین کی صفات میں سے ہے، جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:[ آيَةُ المُنَافِقِ ثَلاَثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ](صحیح بخاری:2749)

یعنی: منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کہے تو جھوٹ کہے اور جب اس کے پاس امانت رکھیں تو خیانت کرے اور جب وعدہ کرے تو خلاف کرے۔

نیز  ملازم مقررہ وقت میں دیے گئے کو پورا کرنے کا ذمے دار بھی ہے، اور  نبیﷺ کا ارشاد ہے:

[كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ](صحیح بخاری:5200)

یعنی:تم میں سے ہر شخس ذمے دار ہے اور اس سے( قیامت کے دن) اس کی ذمے داری کے متعلق سوال کیا جائے گا۔

ان دلائل سے یہ واضح ہورہا ہے کہ چونکہ کمپنی کا وقت ملازم کے پاس امانت  ہوتی ہے اور اس پر یہ واجب ہے کہ وہ اپنے وقت کو امانت  سمجھے اور اس میں خیانت  نہ کرے۔اسی بنیاد پر یہ کہا جائے گا کہ کہ دورانِ ملازمت ڈیوٹی سے کوتاہی کرنا یا کوئی اور کام کرنا درست نہیں ہے، البتہ جہاں تک آرام کا تعلق ہے تو اگر کمپنی کی طرف سے اس بات کی اجازت ہو تو   اس دوران آرام کیا جاسکتا ہے، بصورتِ دیگر یہ جائز نہ ہوگا۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

کتبہ مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔