بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
دین سے مراد کیا ہے؟

دین سے مراد کیا ہے؟

سوال:دین  سے مراد کیا ہے اور  یہ کن چیزوں کو شامل ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

دین عربی زبان میں طریقہ، روش، اطاعت اور جزا کے معنی میں آتا ہے۔ شریعت کی اصطلاح میں دین سے مراد وہ کامل نظامِ زندگی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء علیہم السلام کے ذریعے اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے نازل فرمایا، تاکہ وہ اس کی عبادت، اطاعت اور بندگی اختیار کرکے اس کی رضا اور رحمت حاصل کریں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ﴾(آل عمران: 85)

یعنی: اور جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی اور دین اختیار کرے گا، وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔
دین کی تعلیمات کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

(1) اصولِ دین (عقائد و اخلاق)

یہ وہ بنیادی امور ہیں جو تمام انبیاء علیہم السلام کی دعوت میں مشترک رہے اور کبھی منسوخ نہیں ہوئے، مثلاً:اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان،فرشتوں، آسمانی کتابوں، تمام انبیاء، یومِ آخرت اور تقدیر پر ایمان، صرف اللہ تعالیٰ کو حاکم اور معبود ماننا،اعلیٰ اخلاق، عدل، امانت، سچائی اور پاکیزگی اختیار کرنا۔

اسی حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿شَرَعَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰ أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ﴾

یعنی:اللہ نے تمہارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا جس کی وصیت نوح کو کی، اور جس کی وحی ہم نے آپ کی طرف کی، اور جس کی وصیت ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ کو کی کہ دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔
(الشوریٰ: 13)

(2) شریعت (عملی احکام)

دوسرا حصہ عملی احکام کا ہے، جیسے عبادات، معاملات، نکاح، طلاق، حدود اور دیگر فقہی مسائل۔ ان احکام میں اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے مطابق مختلف انبیاء کی شریعتوں میں بعض تبدیلیاں فرمائیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:

﴿وَلِأُحِلَّ لَكُم بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ﴾(آل عمران: 50)

اور تاکہ میں تمہارے لیے بعض وہ چیزیں حلال کر دوں جو تم پر حرام کی گئی تھیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد ﷺ کو آخری نبی بنا کر ایسی کامل شریعت عطا فرمائی جو قیامت تک باقی رہے گی، چنانچہ فرمایا:

﴿ثُمَّ جَعَلْنَاكَ عَلَىٰ شَرِيعَةٍ مِّنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْهَا﴾(الجاثیہ: 18)

یعنی:پھر ہم نے آپ کو دین کے ایک واضح طریقے (شریعت) پر قائم کیا، لہٰذا اسی کی پیروی کیجیے۔
خلاصہ:دین اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ مکمل نظامِ زندگی ہے۔ اس کے اصولِ ایمان اور بنیادی اخلاق تمام انبیاء علیہم السلام میں مشترک رہے، جبکہ عملی احکام (شریعت) زمانے اور مصلحت کے اعتبار سے مختلف رہے، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والی شریعت آخری اور قیامت تک کے لیے نافذ کر دی گئی۔ لہٰذا آج اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابلِ قبول دین صرف اسلام ہے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔