سوال: سرمایہ کاری کی صورت میں فکس منافع (Fixed Profit) لینے کا کیا حکم ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
سرمایہ کاری (مضاربہ یا مشارکہ) میں فکس منافع طے کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ مثلاً یہ شرط لگانا کہ “ہر ماہ یا ہر سال مجھے لازماً اتنے روپے یا اصل سرمایہ کا اتنے فیصد منافع ملے گا”، خواہ کاروبار میں نفع ہو یا نقصان، یہ درست نہیں،اسی طرح یہ شرط بھی جائز نہیں کہ سرمایہ کار کو ہر حال میں اصل سرمایہ کا مثلاً 10% یا 15% منافع ملے؛ کیونکہ یہ حقیقی منافع میں شراکت نہیں بلکہ منافع کی ضمانت ہے، جبکہ سرمایہ کاری میں منافع کی ضمانت لینا جائز نہیں ہے، جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:
﴿لَا رِبْحَ مَا لَمْ يُضْمَنْ﴾(سنن ابی داؤد: 3504)
یعنی: جس چیز کا ضمان (رسک) نہ اٹھایا جائے، اس کا نفع لینا جائز نہیں۔
اسی طرح نبیﷺ کا فرمان ہے:
«الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ»(سنن نسائی:4495)
نفع اسی کا حق ہے جو نقصان کی ذمہ داری اٹھاتا ہو۔
لہٰذا سرمایہ کاری میں منافع کی صحیح صورت یہ ہے کہ سرمایہ کاری کی مدت طے کی جائے،منافع رقم کی صورت میں نہیں بلکہ تناسب (Ratio) کی صورت میں مقرر کیا جائے، مثلاً 40:60 یا 30:70،مدت مکمل ہونے پر کاروبار کا حساب (Liquidation) کیا جائے،اگر منافع حاصل ہوا ہو تو پہلے سے طے شدہ تناسب کے مطابق تقسیم کیا جائے،اگر نقصان ہو تو وہ سرمایہ کے تناسب سے برداشت کیا جائے، جبکہ مضاربہ میں محنت کرنے والا (مضارب) اپنی محنت سے محروم ہوگا، بشرطیکہ اس کی طرف سے تعدی یا کوتاہی نہ ہوئی ہو۔
خلاصہ کلام:سرمایہ کاری میں فکس منافع یا اصل سرمایہ کے فیصد کے حساب سے لازمی منافع طے کرنا جائز نہیں؛ کیونکہ اس میں نفع کی ضمانت دی جاتی ہے، جبکہ شریعت کا اصول یہ ہے کہ منافع اسی کا حق ہے جو نقصان کا خطرہ بھی برداشت کرے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ منافع کو پہلے سے تناسب کے اعتبار سے طے کیا جائے اور مدت کے اختتام پر حاصل ہونے والے حقیقی منافع کو اسی تناسب سے تقسیم کیا جائے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی