سوال: کیا برانڈز کی طرف سے جو انعامی سکیم ہوتی ہیں اس میں شامل ہوا جاسکتا ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
صورتِ مسؤلہ میں انعامی سکیمز کی چند صورتیں ہوتی ہیں، ذیل میں ہر صورت کا علیحدہ حکم تحریر کردیا جاتا ہے:
- پہلی صورت : اس میں شامل ہونے کے لیے کوئی عوض یا فیس نہ ہو، بلکہ ہر آنے والا بلا معاوضہ اس میں شریک ہو سکتا ہو تو ایسی صورت میں شرکت جائز ہے، کیونکہ یہ محض تبرع، ہدیہ اور انعام ہے، اس میں خرید و فروخت، جوا یا غرر کا کوئی پہلو نہیں۔
- دوسری صورت اس میں شامل ہونے کے لیے عوض مقرر ہو، مثلاً کہا جائے کہ: “اتنی مالیت کی خریداری کریں اور اس کے بدلے فلاں انعام یقینی طور پر حاصل کریں۔
ایسی صورت کا حکم یہ ہے کہ اگر انعام متعین، معلوم اور یقینی ہو، یعنی خریدار کو لازماً ملنا ہو، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں؛ کیونکہ یہ خریداری کے ساتھ ایک معلوم ہدیہ ہے، جس میں جہالت یا غرر نہیں۔
- تیسری صورت : اس میں شامل ہونے کے لیے عوض بھی مقرر ہو، مثلاً مخصوص رقم کی خریداری شرط ہو، لیکن انعام یقینی نہ ہو بلکہ صرف قرعہ اندازی کے ذریعے کسی ایک یا چند افراد کو ملنے کا امکان ہو، اور باقی لوگوں کو کچھ نہ ملے۔
ایسی صورت میں یہ جائز نہیں ہے کیونکہ کیونکہ اس میں انسان اپنا مال اس امید پر خرچ کرتا ہے کہ شاید انعام مل جائے اور شاید نہ ملے، لہٰذا یہ غرر (غیر یقینی معاملہ) ہے،جس سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے، جیسا کہ حدیث نبویﷺ ہے:
﴿ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ﴾(صحیح مسلم:1513)
یعنی:نبیﷺ نے غیر یقینی والی خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے۔
خلاصہ کلام:بغیر کسی عوض کے لکی ڈرا میں شرکت کرنا جائز ہے، نیز عوض دے کر ایسا انعام لینا جو یقینی اور متعین ہو تو اس میں بھی شرکت جائز ہے، البتہ عوض دے کر ایسے لکی ڈرا میں شامل ہونا جس میں انعام ملنا غیر یقینی ہو وہ ناجائز ہے، کیونکہ یہ غرر پر مشتمل ہے، اور اگر خریداری محض انعام کی لالچ میں ہو تو اس میں مال کے ضیاع کا پہلو بھی شامل ہو جاتا ہے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی