سوال: خاندان والوں سے محبت رکھ سکتے ہیں جبکہ وہ بدعات میں شریک ہوں اور تارک نماز ہوں؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
شریعتِ اسلامیہ نے قبروں کے بارے میں سادگی اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے، لہٰذا قبر کو چونے، سیمنٹ یا دیگر اشیاء سے پختہ کرنا، اس پر عمارت تعمیر کرنا یا کتبہ لگا کر اس پر لکھائی کرنا جائز نہیں، اس سلسلے میں سیدناجابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
«نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يُجَصَّصَ الْقَبْرُ، وَأَنْ يُبْنَى عَلَيْهِ، وَأَنْ يُقْعَدَ عَلَيْهِ»(صحیح مسلم: 970)
رسول اللہ ﷺ نے قبر کو پختہ کرنے، اس پر عمارت بنانے اور اس پر بیٹھنے سے منع فرمایا۔
اسی طرح قبروں پر لکھنے سے بھی منع فرمایا گیا ہے، جیسا کہ حدیث نبویﷺ ہے:
«نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يُكْتَبَ عَلَى الْقَبْرِ»(سنن ترمذی: 1052، سنن نسائی: 2029، صحیح)
رسول اللہ ﷺ نے قبر پر لکھنے سے منع فرمایا۔
مزید سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«لَا تَدَعْ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ»(صحیح مسلم: 969، سنن نسائی: 2033)
کوئی اونچی قبر نہ چھوڑنا مگر اسے (شرعی حد تک) برابر کر دینا۔
اس حرمت کی وجہ یہ ہے کہ کیونکہ اس سے قبروں کی تعظیم، ان کے باقی رہنے اور بعد میں غلو و شرک کے اسباب پیدا ہوتے ہیں۔لہذا قبر کو صرف اتنا بلند کیا جائے کہ وہ پہچانی جا سکے، اور اہلِ علم نے اس کی مقدار تقریباً ایک بالشت بیان کی ہے۔البتہ اگر کسی قبر کی صرف شناخت کے لیے ایک سادہ پتھر رکھ دیا جائے، بغیر کسی تعظیمی انداز اور بغیر لکھائی کے، تو اس کی گنجائش احادیث سے معلوم ہوتی ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی قبر پر شناخت کے لیے ایک پتھر رکھوایا تھا۔(سنن ابوداؤد: 3206)
خلاصہ:قبر کو سیمنٹ، چونے وغیرہ سے پختہ کرنا جائز نہیں، نیز قبر پر عمارت، گنبد یا دیگر تعمیرات بنانا جائز نہیں،اسی طرح قبر پر کتبہ یا لکھائی کرنا بھی درست نہیں، البتہ قبر کو صرف ایک بالشت کے قریب بلند رکھا جائے تاکہ پہچانی جا سکے ،اسی طرح شناخت کے لیے سادہ پتھر رکھنے کی گنجائش ہے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی