بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
بدعتی اور تارکِ نماز رشتہ داروں سے تعلقات کا حکم

بدعتی اور تارکِ نماز رشتہ داروں سے تعلقات کا حکم

سوال: خاندان والوں سے محبت رکھ سکتے ہیں جبکہ وہ بدعات میں شریک ہوں اور تارک نماز ہوں؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

اگر کوئی شخص بدعات میں مبتلا ہو یا جان بوجھ کر نماز ترک کرتا ہو تو اس سے محبت رکھنا جائز نہیں، کیونکہ مسلمان کی محبت اور دوستی کا اصل معیار ایمان اور اطاعتِ الٰہی ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ﴾(سورۃ المجادلۃ: 22)

یعنی: آپ ایسے لوگوں کو نہیں پائیں گے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہوں اور وہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے دلی محبت رکھتے ہوں، خواہ وہ ان کے باپ، بیٹے، بھائی یا قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔
اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی مثال  بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿ قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ… وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّى تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ﴾(سورۃ الممتحنۃ: 4)

یعنی: یقیناً تمھارے لیے ابراہیم اور ان لوگوں میں جو اس کے ساتھ تھے ایک اچھا نمونہ تھا، جب انھوں نے اپنی قوم سے کہا کہ بے شک ہم تم سے اور ان تمام چیزوں سے بری ہیں جنھیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، ہم تمھیں نہیں مانتے اور ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض ظاہر ہوگیا، یہاں تک کہ تم اس اکیلے اللہ پر ایمان لاؤ۔

البتہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایسے رشتہ داروں کے ساتھ بدسلوکی کی جائے یا قطع تعلقی کرلی جائے۔ اگر وہ مسلمانوں کے خلاف برسرِ پیکار نہیں ہیں تو ان کے ساتھ حسنِ اخلاق، خیر خواہی، دعوت و نصیحت اور جائز معاملات میں تعاون کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ  ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾(سورۃ الممتحنۃ: 8)

یعنی:اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا۔ بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
اسی طرح سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے اپنی مشرک والدہ کے بارے میں پوچھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«صِلِي أُمَّكِ»(صحیح البخاری:2620)

یعنی:اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔
خلاصہ:بدعت، ترکِ نماز یا شرک پر کسی سے محبت یا رضامندی رکھنا جائز نہیں،البتہ رشتہ داری، حسنِ سلوک، خیر خواہی، دعوت اور نصیحت برقرار رکھی جائے، تاکہ ان کی اصلاح کی کوشش ہو،خصوصاً والدین کے ساتھ حسنِ معاشرت اور صلہ رحمی کا حکم ان کے کفر کی حالت میں بھی باقی رہتا ہے، جب تک وہ کسی گناہ پر مجبور نہ کریں۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔