بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
حالتِ حیض میں بغیر حائل قرآن کو چھونا

حالتِ حیض میں بغیر حائل قرآن کو چھونا

سوال:کیا حائضہ عورت بغیر کسی حائل (دستانے وغیرہ) کے قرآنِ مجید کو چھو سکتی ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

حائضہ عورت کے لیے بغیر کسی حائل کے مصحفِ قرآن کو چھونا جائز نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ ۝ فِي كِتَابٍ مَكْنُونٍ ۝ لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ﴾(سورۃ الواقعۃ: 77-79)

یعنی: بے شک یہ بڑا ہی باعظمت قرآن ہے، جو ایک محفوظ کتاب میں ہے، اسے صرف پاک لوگ ہی چھوتے ہیں۔

نیز نبیﷺ کا فرمان ہے:

أَنْ لَا يَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ»(دارمی:2666، ابن حبان:6559)

یعنی:قرآن کو صرف پاک شخص ہی چھوئے۔
اگرچہ مذکورہ حدیث کی سند میں کچھ کلام ہے ، لیکن دیگر دلائل کو سامنے رکھتے ہوئے  یہی بات واضح ہوتی ہے کہ بغیر حائل کے قرآن کو چھونا حائضہ کے لیے جائز نہیں ہے،البتہ اگر کسی کپڑے، دستانے یا کسی اور حائل کے ذریعے مصحف کو پکڑے تو اس کی گنجائش ہے۔

البتہ موبائل، ٹیبلیٹ یا کمپیوٹر میں موجود قرآن کا حکم مصحف کا نہیں، اس لیے اس میں قرآن پڑھنے یا اسکرین کو چھونے میں حرج نہیں۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔