سوال: کیا انبیاء و رسل علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تخلیق سے پہلے ہی منتخب کر لیا تھا، یا دنیا میں پیدا ہونے کے بعد لوگوں میں سے انہیں نبوت و رسالت عطا کی گئی؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
انبیاء و رسل کا انتخاب اللہ تعالیٰ کا ازلی فیصلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے کامل علم میں پہلے ہی جانتا تھا کہ کون شخص نبی یا رسول ہوگا، کیونکہ تمام مخلوقات کی تقدیریں آسمان و زمین کی تخلیق سے پہلے ہی لکھ دی گئی تھیں، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
«كَتَبَ اللَّهُ مَقَادِيرَ الْخَلَائِقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ»(صحیح مسلم:2653)
یعنی؛اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے تمام مخلوقات کی تقدیریں لکھ دی تھیں، اور اس وقت اس کا عرش پانی پر تھا۔
البتہ یہ علم اللہ تعالیٰ کا تھا، خود نبی کو اپنی نبوت کا علم بعثت سے پہلے نہیں ہوتا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ وحی نازل فرماتا ہےاور نبوت عطا کرتا ہے، تب انہیں معلوم ہوتا کہ وہ اللہ کے نبی ہیں،اسی لیے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ سے فرمایا:
﴿مَا كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَكِنْ جَعَلْنَاهُ نُورًا نَهْدِي بِهِ مَنْ نَشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا﴾(سورۃ الشوریٰ: 52)
یعنی: آپ اس سے پہلے نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے، لیکن ہم نے اس (وحی) کو نور بنایا جس کے ذریعے ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں۔
لہٰذا یہ کہنا کہ نبی کریم ﷺ یا دیگر انبیاء علیہم السلام کو پیدائش ہی سے معلوم تھا کہ وہ نبی ہیں، درست نہیں۔ انہیں اپنی نبوت کا علم وقتِ بعثت میں وحی کے ذریعے ہوا۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی