سوال: کیاسورہ بقرہ میں ہم یہ پڑھتے ہیں کہ جب اللہ نے فرشتوں کو بتایا کہ وہ خلیفہ بنائیں گے تو فرشتوں نے کہا کہ وہ فساد کریں گے تو استاذ محترم فرشتوں کو اس بات کا علم کیسے ہوا؟ کیا انکے پاس غیب کا علم ہوتا ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
فرشتوں کو غیب کا علم نہیں ہوتا کیونکہ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ﴾(سورۃ الأنعام: 59)
یعنی:غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں، انہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
نیز جو واقعہ سوال میں مذکور ہے خود اسی واقعہ میں فرشتوں نے بعد میں عرض کیا:
﴿سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا﴾(سورۃ البقرۃ: 32)
یعنی: اے اللہ! تو پاک ہے، ہمیں تو صرف اتنا ہی علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھایا ہے۔
لہٰذا فرشتوں کا یہ کہنا علمِ غیب کی بنیاد پر نہیں تھا، بلکہ مفسرین نے اس کی چند توجیہات ذکر کی ہیں، جن میں دو زیادہ مشہور ہیں:
پہلی وجہ:اللہ تعالیٰ نے خود فرشتوں کو بتا دیا تھا کہ اس خلیفہ کی اولاد میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جو فساد اور خونریزی کریں گے۔ چنانچہ بعض آثار میں حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعود اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم سے منقول ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے خلیفہ بنانے کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں نے اس کی کیفیت پوچھی، تو انہیں بتایا گیا کہ اس کی نسل میں فساد اور قتل و غارت بھی ہوگی، تب انہوں نے یہ سوال کیا۔(الروح لابن القيم، 2/504)
دوسری وجہ:بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ آدم علیہ السلام سے پہلے زمین میں جنات آباد تھے، انہوں نے فساد اور خونریزی کی تھی۔ فرشتوں نے اسی سابقہ تجربے کی بنا پر گمان کیا کہ زمین میں اختیار رکھنے والی نئی مخلوق سے بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ اس لیے انہوں نے بطورِ استفسار یہ سوال کیا، اعتراض کے طور پر نہیں۔
خلاصہ:فرشتوں کو غیب کا علم نہیں تھا، بلکہ یا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اس مخلوق کی بعض صفات سے آگاہ فرمایا تھا، یا انہوں نے سابقہ مخلوق (جنات) کے حالات کی بنیاد پر یہ سوال کیا۔ اس لیے ان کا یہ سوال علمِ غیب کی دلیل نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ سے حکمت معلوم کرنے کے لیے تھا۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی