سوال: کیا آنلائن مروجہ طریقے پر فاریکس ٹریڈنگ جائز ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ بر صحت سوال
فاریکس ٹریڈنگ میں دو قسم کی کرنسی کی خرید وفروخت عمل میں لائی جاتی ہے:(۱) کرپٹو(ڈجیٹل) کرنسی (۲) روایتی کرنسی Fiat Currency
کرپٹو کرنسی ایک علیحدہ تفصیلی موضوع ہے، جس کا ذکر کرنا یہاں ممکن نہیں ہے۔
روایتی کرنسی کے اندر آنلائن فاریکس ٹریڈنگ میں دو طریقوں سے ٹریڈنگ کی جاتی ہے:(۱) سپاٹ ٹریڈنگSpot Trading (۲) فیوچر ٹریڈنگFuture Trading
ہم ان شآء اللہ بالترتیب دونوں صورتوں کی بالاختصار وضاحت کرتے ہیں:
(۱) سپاٹ ٹریڈنگ Spot Trading: اس میں صارف کرنسی کو خریدتا ہے، اور اس کے فاریکس اکاؤنٹ میں وہ رقم ظاہر ہونے لگتی ہے، اور جب صارف چاہے اس رقم کو بیچ سکتا ہے۔ کرنسی کی خرید وفروخت کے لیے یہ لازمی ہے کہ مجلس العقد میں اس پر قبضہ حاصل کیا جائے، چناچہ:[حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے دینار کی درہم سے یا سونے کی چاندی سے بیع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: زید بن ارقم سے پوچھو، وہ زیادہ جاننے والے ہیں، چنانچہ میں نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: براء سے پوچھو، وہ زیادہ جاننے والے ہیں، پھر دونوں نے کہا: رسول اللہﷺنے سونے کے عوض چاندی کی ادھار بیع سے منع فرمایا۔](صحیح مسلم : بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا، رقم الحدیث: 4075)
لیکن مذکورہ معاملے میں قبضہ حاصل نہیں ہوتا بلکہ موبائل یا کمپیوٹر سکرین پر چند نمبرز تبدیل ہوتے ہیں، جسکا ثبوت یہ بات ہے کہ جب کوئی چیز انسان کے قبضے میں آتی ہے تو اس پر اسکو تصرف/استعمال کا اختیار حاصل ہوجاتا ہے، اب چاہے جس نے یہ کرنسی خریدی ہو وہ اسکو بیچے یا پھر اپنے پاس اس رقم کو نکال کر ذاتی استعمال میں لائے۔ اس معاملے میں ڈالر کے علاوہ کوئی دیگر کرنسی صارف اگر نکلوانا چاہے تو نکلوا نہیں سکتا ، اس کے لیے یہ لازم ہوتا ہے کہ وہ اسی کو آگے فروخت کرے ۔ جب حقیقتاًکرنسی قبضے میں ہی نہیں آئی تو اسکا لازم یہ ہوا کہ خرید و فروخت کا معاملہ منعقد ہی نہیں ہوا، جب یہ معاملہ منعقد ہی نہیں ہو اتو اسکو آگے بیچنا بھی جائز نہیں ہوگا، چناچہ ارشاد نبویﷺ ہے:
[لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ](سنن ابی داؤد:3503)
یعنی: جو چیز تمہاری ملکیت/قبضے میں نہ ہو اسکو فروخت نہ کرو۔
(۲) فیوچر ٹریڈنگFuture Trading: اس میں صارف مستقبل کی کسی معین تاریخ میں کسی چیز کی خرید و فروخت کا معاہدہ کرتا ہے ، مثلاً محمد نے زید سے فروری کی دس تاریخ کو کہا کہ میں آپ سے 10 ڈالر خرید رہا ہوں، اور مارچ کی دس تاریخ کو آپ کو واپس بیچ دوں گا۔ مارچ کی دس تاریخ کو دونوں ملیں گے اور جو قیمت دس فروری کو طے ہوئی تھی اگر قیمت اس سے زیادہ ہوئی تو اضافی رقم زید محمد کو دے دے گا، اور اگر ڈالر کی قیمت کم ہوگئی ہوگی تو زید اس میں جو فرق ہوگا وہ منہا کرکے محمد سے ڈالر لے کر بقیہ رقم محمد کو دے دے گا۔
یہ واضح طور پر جوا ہے،چانچہ جوئے کی تعریف یہ ہے کہ دو فریقین کسی معاہدے پر مقررہ وقت کے ساتھ ایک رقم لگائیں اور اور وقت آنے پر کسی ایک کا نقصان اور دوسرے کا فائدہ ہوجائے، اس سے شریعت مطہرہ نے منع فرمایا ہے، چناچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
[يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ]
یعنی: اے ایمان والو! یہ شراب اور یہ جوا یہ آستانے اور پانسےسب گندے شیطانی کام ہیں لہٰذا ان سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاسکو۔(سورۃ المائدۃ:90)
دوسری جو شرعی قباحت اس میں موجود ہے وہ یہ کہ اس میں صارف کو Leverage ملتا ہے، جو کہ سود کی واضح صورت ہے کہ صارف کو قرضہ دیا جاتا ہے اور پھر اس پر منافع حاصل کیا جاتا ہے، اور یہی سود ہے ، چناچہ حدیث نبویﷺ ہے:
[لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ وَشَاهِدَهُ وَكَاتِبَهُ](سنن ابی داؤد:3333)
یعنی:رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے ، کھلانے ، اس کے گواہ اور لکھنے والے ( سب ) پر لعنت فرمائی ہے ۔
خلاصہ کلام: فاریکس ٹریڈنگ دونوں صورتوں میں حرام ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو اس سے بچنا چاہیے، اور حلال اور پاکیزہ کمائی کی تلاش ہی کرنی چاہیے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالی اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت پر عمل کی توفیق عنایت فرمائے۔آمین
کتبہ: مجلس الافتاء المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر