سوال: کیا پہلے تشہد میں درودِ ابراہیمی پڑھنا ضروری ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
پہلے تشہد میں درود شریف پڑھنا ضروری نہیں، البتہ اگر کوئی پڑھ لے تو یہ جائز بلکہ مستحب ہے۔ نبی کریم ﷺ سے ایسے آثار ملتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ تشہد میں اللہ تعالیٰ کی حمد، اپنے اوپر درود اور دعا پڑھتے تھے، ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
﴿… وَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيُصَلِّي عَلَى نَبِيِّهِ ﷺ وَيَدْعُو …﴾(سنن نسائی:1721)
یعنی: نبیﷺ (قعدہ میں) اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے، اپنے اوپر درود بھیجتے اور دعا کرتے تھے۔
اسی طرح قرآن مجید میں درود پڑھنے کا عمومی حکم دیا گیا ہے:
﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾(سورۃ الأحزاب: 56)
یعنی:بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔
لہذا پہلے تشہد میں درود پڑھنا واجب نہیں ہے، البتہ اگر کوئی پڑھ لے تو مستحب عمل ہے، لیکن اگر چھوت بھی جائے تو سجدہ سہو واجب نہ ہوگا۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی