بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
دورانِ حیض قرآن کی تلاوت کرنا

دورانِ حیض قرآن کی تلاوت کرنا

سوال: کیا خواتین دورانِ حیض قرآن پڑھ سکتی ہیں؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

شرعی دلائل کی روشنی میں حائضہ خاتون کے لیے براہ راست مصحفِ قرآنی کو چھونا جائز نہیں ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

[إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ ۝ فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ  ۝  لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ](سورۃ الواقعۃ:77،78،79)

یعنی: بیشک یہ قرآن بہت بڑی عزت والا ہے۔جو ایک محفوظ کتاب میں درج ہے۔جسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔

البتہ حائل(دستانوں، رومال،  یا کسی کپڑے )کے ساتھ قرآن کو پکڑ کر پڑھا جاسکتا ہے اور فی زمانہ یہ عمل   موبائل کی صورت میں اور بھی آسان ہے، جن طالبات کو اپنا سبق یاد کرنا ہو یا جو معلمات بچیوں کو تعلیم دیتی ہوں وہ    مخصوص حالات میں موبائل میں موجود قرآن سے دیکھ کرتعلیم و تعلم کا سلسلہ جاری رکھ   سکتی ہیں ۔

صورتِ مسؤلہ کے تعلق سے یہ جواب صرف مخصوص حالت میں قرآن کو چھونے  کے تعلق سے ہے، جہاں تک قرأت قرآن اور دیگر ذکر و اذکار کا تعلق ہے تو اس  سلسلے میں سیدہ عائشہرضی اللہ  عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کو دوران حج  مخصوص ایام  آگئے  تو نبیﷺ نے ان کو    حکم دیا:

[افْعَلِي كَمَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي] (صحیح بخاری:1650)

یعنی: جس طرح دوسرے حاجی کرتے ہیں تم بھی اسی طرح ( ارکان حج ) ادا کرلو،البتہ بیت اللہ کا طواف پاک ہونے سے پہلے نہ کرنا۔

یہ بات واضح ہے کہ حاجی قرآن کی تلاوت بھی کرتے ہیں ، ذکر و اذکار بھی کرتے ہیں اور دعائیں بھی مانگتے ہیں، اسی بنیاد مخصوص ایام میں خواتین قرآن کی تلاوت اس  کو  براہ راست چھوئے بغیر  کسی حائل کے ساتھ پکڑ کر، موبائل کی صورت میں، یا حافظہ طالبات  بغیر دیکھے بھی قرآن کی تلاوت کرسکتی ہیں، اور دیگر ذکر و اذکار اور دعائیں بھی مانگ سکتی ہیں، اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

 

 

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔