بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
پینٹ ٹوکن کا حکم

پینٹ ٹوکن کا حکم

سوال: ہم ایک رنگ کا ڈبہ تیرہ سوروپے (1300) کا دیتے ہیں جس میں ایک ہزار (1000) روپے رنگ کی قیمت ہوتی ہے اور تین سو(300)روپے ٹوکن کی صُورت میں پینٹر(رنگ کرنے والے)حضرات کے لئے کمیشن ہوتا ہے تاکہ وہ اس کمپنی کا مال بکوائیں اور اس قسم کا کام نہ کرنے پر کمپنی کا مال کتنا ہی بہتر و معیاری کیوں نہ ہو اس کو عوام میں مقبولیت حاصل نہیں ہوتی ۔اب ان حالات میں رنگ ساز فیکٹری کے مالکان بھی یہ عمل اختیار کریں تو شرعاً یہ عمل درست ہے یا نہیں ؟

الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسئولہ میں بر صحت سوال

رنگ ساز فیکٹری کے مالک کی طر ف سےیہ سوال سامنے آیا ہے کہ وہ ایک رنگ کا ڈبہ تیرہ سوروپے (1300) کا دیتے ہیں جس میں ایک ہزار (1000) روپے رنگ کی قیمت ہوتی ہے اور تین سو(300)روپے ٹوکن کی صُورت میں پینٹر(رنگ کرنے والے)حضرات کے لئے کمیشن ہوتا ہے تاکہ وہ اس کمپنی کا مال بکوائیں اور اس قسم کا کام نہ کرنے پر کمپنی کا مال کتنا ہی بہتر و معیاری کیوں نہ ہو اس کو عوام میں مقبولیت حاصل نہیں ہوتی ۔اب ان حالات میں رنگ ساز فیکٹری کے مالکان بھی یہ عمل اختیار کریں تو شرعاً یہ عمل درست ہے یا نہیں ۔

اس ضمن میں عرض ہے کہ کسی بھی چیز کی خریداری میں چیز کی قیمت دینے والا اس چیز کا مالک بن جاتا ہے۔رنگ کا ڈبہ خریدنے پر وہ ڈبہ اور اس میں جو کچھ موجودہے ہر چیز خریدار کی ملکیت ہے اب اس قیمت میں سے تین سو(300)روپے کا ٹوکن (جس کے پیسے دراصل خریدار نے ادا کئے)پینٹر کو دینے کا اختیار کمپنی کے پاس کہاں سے آیا۔ یہ نہ تو شرعاً درست ہےنہ ہی اس کی کوئی دلیل ہے،فرمان ِ باری تعالیٰ ہے:

[يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ ]

یعنی اے اہل ایمان تم لوگوں کا مال ناجائز طریقے سے نہ کھاؤ (سورۃ النساء :29)

مذکورہ آیت سے بھی اس قسم کے عمل کا عدم ِ جواز ثابت ہوتا ہے،اگر کمپنی پینٹر حضرات کو کچھ دینا چاہتی ہے تو اپنے منافع میں سے دے پھر چاہے وہ انعام کی صورت میں ہو یا پھر کمیشن کی صورت میں،خریدار کی ملکیت میں سے پینٹر کو کچھ دینے کا اختیار اور وہ بھی ایک رشوت جیسی صورت میں ،اس سے کمپنی اور اس سے متعلقہ افراد کو بچنا چاہئےمزیدیہ کہ کچھ دوکانداریہ ٹوکن پینٹر حضرات کو رقم دیکر اپنے پاس رکھ لیتے ہیں اور بعد میں یہی تین سو(300)روپے کی قیمت والا ٹوکن کمپنی کو تین سو تیس(330) روپے کا بیچ دیتے ہیں جو کہ سراسر سُود کے زمرے میں آتا ہے۔

ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت پر عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔