سوال: کیا مشت زنی (استمناء بالید) کرنا جائز ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
مشت زنی (استمناء بالید) شریعت میں ناجائز اور گناہ کا کام ہے، کیونکہ مسلمان کو اپنی شرمگاہ کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے، اور جنسی خواہش پوری کرنے کا جائز طریقہ صرف نکاح یا باندی کو قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ فَمَنِ ابْتَغَىٰ وَرَاءَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْعَادُونَ﴾(سورۃ المؤمنون: 5 تا 7)
یعنی:اور وہ لوگ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں یا اپنی لونڈیوں کے، اس صورت میں ان پر کوئی ملامت نہیں۔ پھر جو ان کے علاوہ کوئی اور راستہ اختیار کرے، تو ایسے ہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں۔
نیز یہ تنہائی میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی بھی ہے، جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
﴿ أَعْلَمَنَّ أَقْوَامًا مِنْ أُمَّتِي يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَسَنَاتٍ أَمْثَالِ جِبَالِ تِهَامَةَ بِيضًا فَيَجْعَلُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَبَاءً مَنْثُورًا قَالَ ثَوْبَانُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صِفْهُمْ لَنَا جَلِّهِمْ لَنَا أَنْ لَا نَكُونَ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَا نَعْلَمُ قَالَ أَمَا إِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ وَمِنْ جِلْدَتِكُمْ وَيَأْخُذُونَ مِنْ اللَّيْلِ كَمَا تَأْخُذُونَ وَلَكِنَّهُمْ أَقْوَامٌ إِذَا خَلَوْا بِمَحَارِمِ اللَّهِ انْتَهَكُوهَا ﴾(سنن ابن ماجہ:4245)
یعنی:میں اپنی امت کے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو قیامت کے دن تہامہ کے سفید پہاڑوں کے برابر نیکیاں لے کر آئیں گے، مگر اللہ تعالیٰ انہیں بکھرے ہوئے غبار کی طرح کر دے گا… کیونکہ جب وہ تنہائی میں ہوتے تو اللہ کی حرام کردہ چیزوں کا ارتکاب کرتے تھے۔
لہٰذا مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس گناہ سے بچے، اپنی نگاہوں اور شرمگاہ کی حفاظت کرے، اور اگر نکاح کی استطاعت نہ ہو تو نبی کریم ﷺ کی ہدایت کے مطابق کثرت سے روزے رکھے، کیونکہ روزہ شہوت کو کم کرنے کا ذریعہ ہے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی