سوال: کیا کسی دوسرے شخص کی طرف سے استخارہ کیا جا سکتا ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
استخارہ ایک ایسی عبادت ہے جو اسی شخص کے لیے مشروع ہے جو کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں تردد میں ہو اور خود اس معاملے کا ارادہ رکھتا ہو۔ لہٰذا کسی دوسرے شخص کی طرف سے استخارہ کرنا یا خود کو اس کا نمائندہ بنا کر استخارہ پڑھنا درست نہیں۔ چنانچہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں تمام معاملات میں استخارہ اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کی کوئی سورت سکھاتے ہوں، اور آپ ﷺ نے فرمایا:
«إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ ثُمَّ لِيَقُلْ…» (صحیح البخاری:1162)
یعنی:جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو فرض نماز کے علاوہ دو رکعت نماز پڑھے، پھر یہ دعا کرے…
اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے استخارہ کا حکم اسی شخص کو دیا ہے جو کسی کام کا ارادہ رکھتا ہو۔ لہٰذا استخارہ کی نماز اور دعا اسی شخص سے متعلق ہے جسے فیصلہ کرنا ہو۔اس کی مثال ایسے ہے جیسے دو آدمی مسجد میں داخل ہوں اور ان میں سے ایک دوسرے سے کہے کہ میری طرف سے تحیۃ المسجد پڑھ لو تاکہ میں بیٹھ جاؤں۔ ظاہر ہے کہ ایسا درست نہیں، کیونکہ یہ ایک شخصی عبادت ہے جس کا تعلق خود عبادت کرنے والے سے ہے۔ اسی طرح نمازِ استخارہ بھی وہی شخص ادا کرے گا جو اس معاملے میں رہنمائی چاہتا ہے۔
البتہ کسی مسلمان کے لیے خیر و برکت اور بھلائی کی دعا کرنا جائز بلکہ مستحب ہے، لیکن اسے استخارہ قرار نہیں دیا جائے گا۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی