بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
نابالغ بچے/بچی کے حج و عمرے کا حکم

نابالغ بچے/بچی کے حج و عمرے کا حکم

سوال:نابالغ بچہ/ بچی کا عمرہ یا حج کرنا کیسا ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

نابالغ بچے، خواہ ممیز (سمجھ دار) ہوں یا غیر ممیز (ناسمجھ)، دونوں کا حج اور عمرہ شرعاً درست ہے۔ جیسا کہ  سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما  سے روایت ہے:

﴿أَنَّ امْرَأَةً رَفَعَتْ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ صَبِيًّا فَقَالَتْ: أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ﴾(صحیح مسلم:2378)

یعنی: ایک عورت نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک بچے کو اٹھا کر عرض کیا: کیا اس بچے کا بھی حج ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: “ہاں، اور تمہارے لیے بھی اجر ہے۔

البتہ نابالغ بچوں کے احکام ان کی سمجھ بوجھ کے اعتبار سے مختلف ہیں:

(1) ممیز (سمجھ دار) بچہ:

اگر بچہ نیت، تلبیہ اور حج یا عمرہ کے اعمال سمجھتا ہو تو وہ خود احرام کی نیت کرے، تلبیہ پڑھے اور جن اعمال کو خود ادا کرسکتا ہو، وہ خود انجام دے۔جن اعمال میں اسے مدد کی ضرورت ہو، ان میں اس کا والد یا ولی اس کی معاونت کرے۔البتہ طواف کے بعد کی دو رکعتیں، اگر بچہ ادا کرنے کی استطاعت رکھتا ہو، تو وہ خود پڑھے، اس کا ولی اس کی طرف سے ادا نہیں کرسکتا۔

(2) غیر ممیز (ناسمجھ) بچہ:

اگر بچہ چلنے کے قابل ہو تو خود طواف اور سعی کرے، اور اگر چلنے کے قابل نہ ہو تو اسے گود میں اٹھا کر یا پرام (Stroller) میں بٹھا کر طواف اور سعی کرائی جاسکتی ہے۔چونکہ غیر ممیز بچہ نیت اور تلبیہ کی صلاحیت نہیں رکھتا، اس لیے اسے غسل کرا کر احرام کا لباس پہنایا جائے، پھر اس کا والد یا ولی اس کی طرف سے احرام کی نیت کرے اور تلبیہ پڑھے، اس کے بعد اسے اپنے ساتھ طواف، سعی اور دیگر مناسک ادا کروائے۔

دونوں قسم کے بچوں کو حتیٰ الامکان احرام کی پابندیوں کا لحاظ رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ تاہم اگر نادانستہ ان سے احرام کی کوئی ممنوع چیز سرزد ہوجائے، مثلاً خوشبو لگا لیں، سلے ہوئے کپڑے پہن لیں یا احرام اتار دیں، تو ان پر کوئی فدیہ یا جزا لازم نہیں ہوگی؛ کیونکہ وہ شرعی تکلیف کے مکلف نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ نابالغی میں ادا کیا گیا حج یا عمرہ باعثِ اجر ہے، لیکن اس سے فرض حج ادا نہیں ہوتا۔ لہٰذا جب بچہ بالغ ہو جائے اور اس میں حج کی استطاعت بھی پائی جائے تو اس پر دوبارہ فرض حج ادا کرنا لازم ہوگا۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔