سوال:کیا سگریٹ کی خرید و فروخت حلال ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
سگریٹ پینے کے حکم کے تعلق سے تفصیلی حکم فتویٰ نمبر:446546 میں ملاحظہ فرمائیں۔ جہاں تک سگریٹ کی خرید و فروخت کا حکم ہے تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ چونکہ سگریٹ پینا کئی شرعی وجوہات کی بنیاد پر حرام ہے اس وجہ سے اس کی فروخت کا کام کرنا بھی جائز نہیں ہے، کیونکہ اس کی فروخت گناہ اور نافرمانی کے کاموں میں تعاون ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے سختی سے منع فرمایا ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
[ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ](سورۃ المائدہ:02)
یعنی: اور گناہ ظلم زیادتی میں مدد نہ کرو۔
نیز نبیﷺ کا فرمان ہے:
[ وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا حَرَّمَ عَلَى قَوْمٍ أَكْلَ شَيْءٍ حَرَّمَ عَلَيْهِمْ ثَمَنَهُ](سنن ابی داؤد:3488)
یعنی: بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم پر کسی چیز کا کھانا حرام کر دیتا ہے ، تو اس کی قیمت بھی حرام کر دیتا ہے۔
اسی بنیاد پر چونکہ سگریٹ بھی حرام ہےاس لیے اس کی فروخت کرنا بھی حرام ہے اور اس سے حاصل ہونے والی کمائی بھی حرام ہی رہے گی، اور حرام مال کھانے کے تعلق سے کئی شرعی دلائل میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:
[ إِنَّهُ لاَيَرْبُو لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ إِلاَّ كَانَتْ النَّارُ أَوْلَى بِهِ]
یعنی: جوگوشت بھی حرام سے پروان چڑھے گا ، آگ ہی اس کے لیے زیادہ مناسب ہے۔(سنن ترمذی:614)
سو ان لوگو ں کو ڈرنا چاہئے جو حرام اشیاء کی خرید و فروخت کرتے ہیں، اور حلال و پاکیزہ مال کی کی تلاش کرنی چاہیے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی