بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
حیض سے رکنے کے لیے ادویات کا حکم

حیض سے رکنے کے لیے ادویات کا حکم

سوال:خواتین کا مانع حیض ادویات کا استعمال کرنا کیسا ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

واضح رہے کہ    خواتین  کی فطرت میں اللہ نے ایام مخصوص کا دورانیہ رکھا ہے، اور اس فطرت کی وجہ سے  اللہ تعالیٰ نے خواتین پر سے کئی اسلامی احکامات  سے رخصت عطا فرمائی ہے، لہذا اللہ تعالیٰ کی اس رخصت کو  قبول کرنا چاہئے، کیونکہ نبیﷺ کا فرمان ہے:

[إنَّ اللهَ يحبُّ أنْ تؤتَى رُخصُهُ كما يحبُّ أنْ تُجتنبَ عزائمُهُ أو تؤتَى عزائمُهُ]  (مسند احمد:108/2)

یعنی: ”اللہ تعالیٰ کو یہ اسی طرح پسند ہے کہ جن کاموں میں اس نے رخصت عنایت فرمائی ہے، ان میں رخصت پر عمل کیا جائے، جس طرح اسے یہ ناپسند ہے کہ معصیت والے کاموں کو کیا جائے۔“

البتہ اگر کوئی  مجبوری ہو جیسا کہ حج  یا عمرے کا سفر ہو تو اس وجہ سے ڈاکٹر حضرات کے مشورے سے اور نقصان نہ ہونے کی شرط  پر ان ادویات کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔