سوال: میزان بینک کی جانب سے Dedicative Equity Fund جاری کیا گیا ہے، کیا اس میں سرمایہ کاری کرنا درست ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
صورت مسؤلہ میں میزان بینک Dedicative Equity Fund کے تعلق سے عرض ہے کہ دیگر مروجہ اسلامی بینک کے امور کی طرح اس صورت میں بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ مکمل طور پر شرعی طریقہ سرمایہ کاری ہے، جو کہ مضاربہ کے اصولوں کے تحت کام کرتا ہے، جس میں صارف کی حیثیت سرمایہ کار(رب المال) کی ہوتی ہے ۔
اس معاملے کو شرعی اصطلاح کا نام دے کر “مضاربة” قرار دینا سراسر غلط ہے، کیونکہ اس میں شرعی قباحتیں موجود ہیں، جنکی بنیاد پر اس کو “مضاربة” نہیں کہا جاسکتا ان قباحتوں کو ذیل میں اختصاراً ذکر کیا جارہا ہے:
- “مضاربة” میں شریعت نے یہ قید لگائی ہے کہ منافع کی تقسیم کا تناسب فریقین کی رضامندی اور معاہدہ طے ہوتے وقت ہونا لازمی ہے،تاکہ ہرقسم کی لاعلمی اور جہالت سے یہ معاملہ پاک رہے، نبیﷺ نے ہر اس خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے کہ جس میں جہالت و لاعلمی پائی جائے،چنانچہ نبیﷺ کی حدیث ہے:[نَهَى رَسُولُ اللهِ ّﷺعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ] (صحیح مسلم:3808)
ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے دھوکے والی بیع سے منع فرمایا ہے۔
اسی بنیاد پر ہر وہ معاملہ جس میں غرر پایا جائے وہ ناجائز ہوتا ہے،نیز اسلامی بینک کے شریعہ اسٹینڈرڈز AAOFI میں مذکور ہے:” لا يجوز تأجيل تحديد نسب الأرباح لأطراف الشركة إلى ما بعد حصول الربح، بل يجب تحديدها عند إبرام الشركة.” [المعيار الشرعي رقم ١٢:الشركة ،المشاركة، والشركات الحديثية،ص:255]
یعنی: شراکت داروں کے لیے نفع کے تناسب کو نفع حاصل ہونے کے بعد تک مؤخر کرنا جائز نہیں، بلکہ شرکت کے وقت ہی اس کا تعین ضروری ہے۔
جبکہ مذکورہ فنڈ میں منافع کی تقسیم کا تناسب ہر مہینے کی ابتدائی تاریخوں میں طے کیا جاتا ہے جو کہ اس فنڈ کو مشکوک کردیتی ہے۔
- شرعاً “مضاربة” رب المال (صارف) کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ مضارب پر کسی خاص جگہ پر سرمایہ کاری کرنے پر پابندی لگا سکتا ہے، نیز رب المال کے علم میں جس جگہ سرمایہ کاری کی جارہی ہو اس کا بھی معلوم ہونا ضروری ہے، جبکہ میزان بینک کے اس فنڈ میں کسی حد تک یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ سرمایہ کاری کس جگہ کی جارہی ہے، البتہ رب المال کے پاس اختیار نہیں ہوتا،بلکہ یہ اختیار ابتداء معاہدہ میں ہی سلب کردیا جاتا ہے جو کہ اس مضاربہ کو مزید مشکوک بنادیتا ہے۔
- نیز اس فنڈ میں آنے والی رقم کا ایک بڑا حصہ تقریباً 10 فیصد کمرشل بینک میں انویسٹ کیا جاتا ہے، حالانکہ کمرشل بینک کی آمدنی کی حرمت پر سب کا اتفاق ہے۔مزید سٹاک میں جو سرمایہ کاری کی جاتی ہے اس میں بھی رقم کا بڑا حصہ اسلامی بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں ڈالا جاتا ہے ، اور اسلامی بینک کے طریقہ کار پر جمہور علماء کو شرعی تحفظات ہیں۔
خلاصہ کلام: موجودہ قباحتوں کی موجودگی کی وجہ سے اس فنڈ میں سرمایہ کاری کرنا درست معلوم نہیں ہوتا۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی