سوال: موجودہ دورمیں سونے اور چاندی کا نصاب کیا ہے ؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
واضح رہےکہ شریعت میں سونے اور چاندی کے نصاب کا تعین واضح اور متعین ہے۔ قدیم اسلامی پیمانوں کے مطابق سونے کے وزن کا شرعی پیمانہ مثقال ہے، جو جدید وزن میں 4.25 گرام کے برابر ہے۔چونکہ سونے کا نصاب 20 مثقال ہے، جو 85 گرام بنتا ہے۔ نیز ملک پاکستان میں ایک تولہ11.664 گرام کے برابر ہے، لہٰذا جس شخص کے پاس 85 گرام یا تقریباً 7.25 تولہ خالص سونا ہو، اس پر زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے۔
جہاں تک چاندی پر زکوٰۃ کا تعلق ہے تو چاندی کے وزن کا شرعی پیمانہ درہم ہے، جو جدید وزن میں 2.975 گرام بنتا ہے۔چونکہ چاندی کا نصاب 200 درہم ہے، جو 595 گرام بنتا ہے، اور ملکِ پاکستان میں تولہ کے حساب سے 595 گرام میں 51 تولہ چاندی آتی ہے،لہٰذا جس شخص کے پاس 595 گرام یا تقریباً 51 تولہ چاندی ہو، اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔
سونا اور چاندی میں مذکورہ نصاب کی دلیل نبیﷺ کا فرمان ہے:
﴿فَإِذَا كَانَتْ لَكَ مِائَتَا دِرْهَمٍ, وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، وَلَيْسَ عَلَيْكَ شَيْءٌ -يَعْنِي: فِي الذَّهَبِ -حَتَّى يَكُونَ لَكَ عِشْرُونَ دِينَارًا، فَإِذَا كَانَ لَكَ عِشْرُونَ دِينَارًا, وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ فَفِيهَا نِصْفُ دِينَارٍ﴾(سنن ابی داؤد:1573)
یعنی: جب تمہارے پاس دو سو درہم ہوں اور ان پر ایک سال گزر جائے تو ان پر پانچ درہم ( زکوٰۃ ) ہے ۔ اور سونے میں تم پر کچھ نہیں حتیٰ کہ تمہارے پاس بیس دینار ہوں ، پس جب تمہارے پاس بیس دینار ہوں اور ان پر ایک سال گزر جائے تو ان پر آدھا دینار ( زکوٰۃ ) ہے۔
خلاصہ کلام: سونے کا نصاب: 85 گرام (تقریباً 7.25 تولہ)،چاندی کا نصاب: 595 گرام (تقریباً 51 تولہ)،دونوں پر سال گزرنے کے بعد 2.5٪ زکوٰۃ واجب ہے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی