بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
آفس میں لوگ غیبت کرتے ہیں، ہم کیا کریں؟

آفس میں لوگ غیبت کرتے ہیں، ہم کیا کریں؟

سوال: آفس میں کام کے دوران ساتھ کام کرنے والے افراد چغلیاں کرتے ہیں، میرے لیے شریعت میں کیا رہنمائی ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

اگر دفتر میں ساتھی ملازمین غیبت، چغلی یا دیگر ناجائز گفتگو کرتے ہوں تو ایک مسلمان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ حسبِ استطاعت اس برائی کو روکنے کی کوشش کرے، اگر وہ کسی بڑی پوسٹ پر ہو اور یہ کام کرنے والے ان کے ماتحت کام کرتے ہوں یا ایسا کام کرنے والے ان کے دوست ہوں تو وہ ان کو اس کام سے روکیں،کیونکہ  نبیﷺ کا فرمان ہے:

﴿ مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ﴾(صحیح مسلم:۱۷۷)

یعنی: تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے، اسے چاہیے کہ اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو دل میں اسے برا جانے، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔

لہذا اگر نرمی سے سمجھانا ممکن ہو تو حکمت کے ساتھ نصیحت کرے،البتہ اگر اس برائی سے لوگوں کو روکنا ان کی طاقت میں نہ ہو تو  دل میں ان امور کی قباحت کو حاضر رکھتے ہوئے اس مجلس کا حصہ نہ بنے تو ایسی گفتگو سے خود کو الگ کر لے یا موضوع تبدیل کرنے کی کوشش کرے،کیونکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا﴾(سورۃ الفرقان:72)

یعنی: اور رحمن کے نیک بندے وہ ہیں جو جھوٹے کام میں شامل نہیں ہوتے اور جب کبھی بے ہودہ (مجالس) کے پاس گزرتے ہیں تو کریمانہ انداز میں گزرجاتے ہیں۔

لہٰذا عملی طریقہ یہ ہے کہ جہاں ممکن ہو حکمت کے ساتھ برائی سے منع کیا جائے، ورنہ خود اس گفتگو میں شریک نہ ہوا جائے اور اپنی زبان اور کردار کی حفاظت کی جائے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

 

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔