بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
عید کا خطبہ ایک یا دو

عید کا خطبہ ایک یا دو

سوال: عیدین کے خطبہ کی تعداد: ایک خطبہ یا دو خطبے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

نمازِ عید (عید الفطر اور عید الاضحیٰ) کے بعد جو خطبہ دیا جاتا ہے، ان کی تعداد کے بارے میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے،نبیﷺ کی صحیح احادیث سے جو بات راجح معلوم ہوتی ہے وہ یہی ہے کہ عیدین کی نماز کے بعد ایک خطبہ دیا جائے ،جیسا کہ   سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے:

﴿كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى إِلَى الْمُصَلَّى فَأَوَّلُ شَيْءٍ يَبْدَأُ بِهِ الصَّلَاةُ ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَقُومُ مُقَابِلَ النَّاسِ وَالنَّاسُ جُلُوسٌ عَلَى صُفُوفِهِمْ فَيَعِظُهُمْ وَيُوصِيهِمْ وَيَأْمُرُهُمْ﴾(صحیح بخاری:۹۵۶)

یعنی:  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کے دن ( مدینہ کے باہر ) عید گاہ تشریف لے جاتے تو سب سے پہلے آپ نماز پڑھاتے، نمازسے فارغ ہو کر آپ لوگوں کے سامنے کھڑے ہوتے۔ تمام لوگ اپنی صفوں میں بیٹھے رہتے، آپ انہیں وعظ ونصیحت فرماتے۔

اس حدیث   میں  نبیﷺ کے ایک ہی مرتبہ قیام کا ذکر ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ عیدین کا خطبہ ایک ہی ہے، البتہ جن روایات میں دو خطبات کا ذکر ہیں وہ سند کے لحاظ سے کمزور ہیں، لہذا بہتر اور سنتِ نبویﷺ کے قریب امر یہی معلوم ہوتا ہے کہ  عیدین کا ایک ہی خطبہ دیا جائے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔