بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
قربانی کا جانور مر جائے یا چوری ہوجائے

قربانی کا جانور مر جائے یا چوری ہوجائے

سوال:اگر قربانی کا جانور  قربانی سے پہلے  مر جائے یا چوری ہوجائے تو کیا حکم ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

اگر قربانی کا جانور قربانی سے قبل مر جائے یا  گم ہوجائے اور اس میں مالک کی طرف سے کوئی لاپرواہی شامل نہ ہو تو اس صورت میں اگر مالک صاحبِ استطاعت ہو اور قربانی کا دوسرا جانور  خرید کر قربان کرنا چاہے تو کیا جاسکتا ہے، البتہ یہ واجب نہیں ہے، کیونکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾(سورۃ النساء:03)

یعنی: اللہ کسی آدمی کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں کرتا۔

البتہ جانور اگر کہیں گم ہوگیا ہو اور ایام قربانی کے بعد واپس مل جائے تو اس صورت میں  اس گوشت  صدقہ کیا جائے گا ، کیونکہ قربانی کا جانور وقف ہوتا ہے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔