بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
جانور خریدنے کے بعد اگر عیب آجائے

جانور خریدنے کے بعد اگر عیب آجائے

سوال: اگر جانور خریدنے کے بعد اس میں عیب پیدا ہوجائے  تو کیا حکم ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

قربانی کا جانور تندرست اور بےعیب ہونا چاہیئے لیکن قربانی کا جانور خریدنے کے بعداگر اس میں عیب پیدا ہوجائے مثلا: ٹانگ ،سینگ ، دانت یا ہڈی ٹوٹ جائے، کان کٹ جائے،مریض ہو جائے توكوئی حرج نهیں ، اس جانور کی قربانی کی جاسکتی ہے، سیدنا عبدا للہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں :

“إن کان أصابہا بعد ما اشتریتموها فامضوها وإن کان أصابہا قبل أن تشتروها فأبدلوها”(السنن الکبری للبیہقی : 9/289 ، وسندہ صحیح)

یعنی: اگر خریدنے کے بعد عیب پیدا ہو تو قربانی کر دو ، لیکن اگر عیب پہلے سے موجود ہو تو اسے بدل لو۔

لہذا اگر ایسی صورت ہو  تو اس جانور کی قربانی کی جاسکتی ہے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔