سوال: جو قربانی نہ کرے کیا وہ بھی ناخن اور بال نہیں کاٹے گا؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
قربانی کے متعلق جو یہ حکم آیا ہے کہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد قربانی کرنے والے شخص کے لیے بال اور ناخن نہ کاٹے جائیں، یہ حکم صرف قربانی کرنے والے (صاحبِ قربانی) کے ساتھ خاص ہے، جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:
﴿ إِذَا دَخَلَتْ الْعَشْرُ فَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعْرِهِ وَلَا مِنْ بَشَرِهِ شَيْئًا﴾(سنن نسائی:4369)
یعنی: جب ذوالحجہ شروع ہو جائے تو جو شخص قربانی کا ارادہ رکھتا ہو، تو وہ اپنے بال یا جسم کا کوئی اور حصہ (مثلاً ناخن وغیرہ) نہ کاٹے۔
اس حدیث میں نبیﷺ نے بال اور ناخن نہ کاٹنے کا حکم صرف اس کو دیا ہے جو قربانی کا ارادہ رکھتا ہو،لہٰذا جس شخص کے نام سے قربانی کی جا رہی ہو یا جو اپنی طرف سے قربانی ادا کر رہا ہو،یہ پابندی صرف اسی کے لیے ہے،گھر کے دیگر افراد خواہ وہ مرد ہوں یا عورتیں، یا بچے ہوں، اور جو قربانی نہ کر رہے ہوں، ان پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔ وہ حسبِ معمول اپنے بال اور ناخن کاٹ سکتے ہیں، اس سے قربانی کی صحت یا ثواب پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی