سوال: کیا حاجی اپنے ملک میں قربانی کرے گا؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
حاجی پر اصل ذمہ داری حج کی قربانی (ہدی) ہوتی ہے، خصوصاً اگر وہ حجِ تمتع یا قران کرنے والا ہو، لہٰذا ایامِ حج میں وہ مکہ مکرمہ میں ہدی ذبح کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر ہدی ذبح فرمائی، جیسا کہ جابر بن عبداللہ سے روایت ہے:
﴿أَنَّ النَّبِيَّ ﷺسَاقَ هَدْيًا فِي حَجِّهِ﴾(سنن نسائی:2800)
یعنی: نبی اکرمﷺاپنے ساتھ حج میں ہدی لے کر گئے۔
مزید ایک روایت سیدنا جابر بن عبداللہ سے ہے کہ وہ فرماتے ہیں:
﴿أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِﷺ مِائَةَ بَدَنَةٍ﴾(سنن نسائی:1306)
یعنی: نبی اکرمﷺ نے (حج کے موقع پر) سو انٹوں کی ہدی ذبح کی۔
لہٰذا حاجی کے حق میں اصل مشروع قربانی” ہدی” ہے۔ البتہ اگر حاجی اکیلا حج کے لیے گیا ہو اور اس کے اہلِ خانہ اپنے ملک میں موجود ہوں اور وہ صاحبِ استطاعت ہو تو بہتر یہ ہے کہ وہ اتنی رقم چھوڑ کر جائے جس سے اس کے گھر والے عیدالاضحی کی قربانی کرسکیں۔ اس طرح حاجی اپنی طرف سے ہدی ادا کرے گا، جبکہ اس کے اہلِ خانہ اپنے مقام پر عید کی قربانی کریں گے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی