بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
عام روٹین کے بعد بھی حیض کا خون آنا

عام روٹین کے بعد بھی حیض کا خون آنا

سوال: اگر کسی خاتون کو ایام عادت کے بعد خون کے قطرے آئیں تو ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

واضح رہے کہ شریعتِ اسلامیہ نے حیض کے ایام کی کوئی قطعی تعداد مقرر نہیں کی، بلکہ اس معاملے میں عورت کی عادت، خون کی علامات اور عرف کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ عموماً خواتین اپنی ماہانہ عادت کو بخوبی جانتی ہیں کہ انہیں کتنے دن حیض آتا ہے۔ لہٰذا اگر کسی خاتون کو عموماً سات دن حیض آتا ہو، پھر سات دن مکمل ہونے کے بعد خون بند ہوجائے اور طہارت کی علامات ظاہر ہوجائیں، لیکن اس کے بعد چند قطرے یا ہلکا خون آئے، تو وہ حیض شمار نہیں ہوگا بلکہ اسے شریعت کی اصطلاح میں “استحاضہ” کہا جاتا ہے، جو ایک بیماری کا خون ہے۔ ایسی حالت میں خاتون شرعاً پاک شمار ہوگی، نماز ادا کرے گی، روزے رکھے گی، تلاوتِ قرآن اور دیگر عبادات بھی کرسکے گی۔

اس کی دلیل نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث ہے:

﴿إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ، وَلَيْسَ بِحَيْضٍ﴾(صحیح البخاری: 306)

یعنی:یہ ایک رگ کا خون ہے، حیض نہیں ہے۔

اسی حدیث میں نبی ﷺ نے مستحاضہ عورت کو فرمایا:

﴿فَإِذَا أَقْبَلَتْ حَيْضَتُكِ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ ثُمَّ صَلِّي، وَتَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ﴾(صحیح البخاری: 228)

ترجمہ:جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو، اور جب ختم ہوجائے تو خون دھو کر نماز پڑھو، اور ہر نماز کے لیے نیا وضو کرو۔

حیض ختم ہونے کی پہچان:

حیض کے ختم ہونے کا اندازہ چند امور سے کیا جاسکتا ہے:

  1. عادت کے اعتبار سے:عورت کو پہلے جتنے دن حیض آتا رہا ہو، یا اس کے خاندان کی خواتین کی عمومی عادت ہو، اسے بطور معیار دیکھا جاسکتا ہے۔
  2. خون کی علامات سے:حیض کا خون عام طور پر:سیاہی مائل ہوتا ہے، گاڑھا ہوتا ہے، اور اس میں خاص قسم کی بدبو ہوتی ہے۔جب یہ اوصاف ختم ہوجائیں اور عام خون یا معمولی رطوبت باقی رہ جائے تو حیض ختم شمار ہوگا۔
  3. طہر کی علامت سے:جب سفید رطوبت (القَصَّة البیضاء) ظاہر ہوجائے یا مکمل ایک دن اور رات خون بند رہے، تو عورت پاک شمار ہوگی۔

لہٰذا اگر عادت کے دن مکمل ہوجانے اور طہارت کی علامات ظاہر ہونے کے بعد چند قطرے آئیں تو وہ استحاضہ کے حکم میں ہوں گے، حیض کے حکم میں نہیں۔ ایسی خاتون عبادات جاری رکھے گی، البتہ ہر فرض نماز کے وقت نیا وضو کرنا بہتر و مشروع ہے۔

خلاصۂ کلام:ایامِ عادت ختم ہونے اور طہارت کی علامات ظاہر ہونے کے بعد آنے والے خون کے قطرے حیض نہیں بلکہ استحاضہ شمار ہوں گے، لہٰذا ایسی حالت میں نماز، روزہ اور دیگر عبادات ترک نہیں کی جائیں گی۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔