بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
حیض کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ مدت

حیض کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ مدت

سوال: خواتین کے ایام مخصوصہ کی کم از کم  اور زیادہ سے زیادہ تعداد کتنی ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

شریعتِ اسلامیہ نے حیض کے ایام کے لیے کوئی قطعی کم سے کم یا زیادہ سے زیادہ مدت مقرر نہیں کی، بلکہ اس معاملے کو خواتین کی عادت، طبیعت اور خون کی علامات کے ساتھ متعلق رکھا ہے۔ اسی لیے بعض خواتین کے ایام چھ یا سات دن ہوتے ہیں، جبکہ بعض میں اس سے کم یا زیادہ بھی ہوسکتے ہیں، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا سے فرمایا:

فَإِذَا أَقْبَلَتْ حَيْضَتُكِ فَدَعِي الصَّلاَةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ ثُمَّ صَلِّي۔(صحیح بخاری:228

جب تم کو  حیض آئے تو نماز چھوڑ دو اور جب یہ دن گزر جائیں تو اپنے ( بدن اور کپڑے ) سے خون کو دھو کر نماز پڑھ لو۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حیض کی پہچان اس کے خون کے اوصاف سے ہوتی ہے نہ کہ ایام  کی تعداد سے، لہذا جب حیض کے خون کی نشانیاں ختم ہوجائیں تو اس وقت سے  خاتون پاک شمار ہوگی، حیض کا خون گاڑھا، سیاہی مائل اور بدبودار  ہوتا ہے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔