بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
غسل کی فرضیت

غسل کی فرضیت

سوال :ایک مسلمان پر  غسل کن کن صورتوں میں  فرض ہوتا ہے؟

الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

واضح رہے کہ انسان پر غسل فرض ہونے کی چند صورتیں ہیں: ۱۔ازدواج تعلقات(ہم بستری) ۔۲۔احتلام۔۳۔حیض و نفاس

۱۔ازدواجی تعلقات(ہم بستری):  میاں بیوی کے آپس کا تعلق قائم ہو چاہے انزال نہ بھی ہوا ہو تو  دونوں پر غسل فرض ہوجاتا ہے، چنانچہ نبیﷺ کا فرمان:

[ إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الأَرْبَعِ، ثُمَّ جَهَدَهَا فَقَدْ وَجَبَ الغَسْلُ] (صحیح بخاری:291)

یعنی: جب مرد عورت کے چہار زانو میں بیٹھ گیا اور اس کے ساتھ جماع کے لئے کوشش کی تو غسل واجب ہو گیا۔

دوسری روایت میں اس کی وضاحت ہوتی ہے کہ نبیﷺ کا فرمان:

[ إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ]

یعنی: جب( شوہر اور بیوی کی )شرمگاہیں  باہم مل جائیں ،تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔(سنن ابن ماجہ:608)

۲۔احتلام: اگر کسی انسان کو سوتے یا جاگتے شہوت کے  وقت قوت کے ساتھ منی کا خروج ہوجائے تو ایسی کیفیت کو احتلام کہا جاتا ہے، عموماً یہ معاملہ مردوں کے ساتھ پیش آتا ہے، البتہ کبھی کبھار یہ معاملہ خواتین کے ساتھ بھی پیش آسکتا ہے، تو جب بھی کوئی ایسا معاملہ پیش آئے تو ایسے شخص پر غسل فرض ہے، چنانچہ نبیﷺ کا فرمان ہے:

[سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الْبَلَلَ وَلَا يَذْكُرُ احْتِلَامًا؟ قَالَ:يَغْتَسِلُ وَعَنِ الرَّجُلِ يَرَى أَنَّهُ قَدِ احْتَلَمَ وَلَا يَجِدُ الْبَلَلَ؟ قَال:>لَا غُسْلَ عَلَيْهِ<، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: الْمَرْأَةُ تَرَى ذَلِكَ، أَعَلَيْهَا غُسْلٌ؟ قَالَ: >نَعَمْ، إِنَّمَا النِّسَاءُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ]

یعنی: رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ انسان ( اپنے جسم یا کپڑوں پر ) نمی محسوس کرتا ہے مگر اسے احتلام ( یا خواب ) یاد نہیں آتا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” غسل کرے ۔ اور اس آدمی کے متعلق پوچھا گیا جو سمجھتا ہے کہ اسے احتلام ہوا ہے مگر ( جسم یا کپڑوں پر ) کوئی نمی نہیں پاتا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” اس پر غسل نہیں ۔ “ تو ام سلیم ؓ نے کہا کہ اگر عورت اسی طرح دیکھے تو کیا اس پر غسل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” ہاں ! عورتیں ( بھی ) بلاشبہ مردوں ہی کی مانند ہیں ۔ “(سنن ابی داؤد:236)

۳۔حیض و نفاس:حیض کا خون وہ خون ہوتا ہے جو کسی بھی بالغ خاتون کو  ہر مہینے کے چند دن آتا ہے، عموماً اس کی مقدار ۳ سے ۷ دن ہوتی ہے،اس دوران خاتون کو نماز اور روزہ  نہیں رکھنا ہوتا، بعد میں روزے کی قضاء ہوتی ہے ،نمازیں معاف ہوجاتی ہیں،نیز جب یہ خون آنا بند ہوجائے تو غسل فرض ہوجاتا ہے، چنانچہ نبیﷺ کا فرمان ہے:

[ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الحَيْضَةُ، فَدَعِي الصَّلاَةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي]

یعنی: جب حیض کے دن گزر جائیں تو غسل کر کے نماز پڑھ لیا کرو۔(صحیح بخاری:320)

خلاصہ کلام: ایک مسلمان  کے ساتھ ذکر کردہ صورتوں میں سے کوئی بھی صورت پیش آجائے تو اس پر غسل فرض ہو جاتا ہے، نیز اگر دو یا زائد صورتیں جمع ہوجائیں تو تمام کے لیے ایک غسل کافی ہوگا۔

ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

 

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔