بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
چچا، پھوپھی، ماموں، خالہ کو زکوٰۃ دینا

چچا، پھوپھی، ماموں، خالہ کو زکوٰۃ دینا

سوال: چچا پھوپی ماموں خالہ کو زکوٰۃ دینا کیسا ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

شرعاً انسان اپنے اصول یعنی:ماں، باپ، دادا، دادی،نانا، نانی اور اپنے فروع یعنی:بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، نواسہ، نواسی کو زکوٰۃ نہیں دے سکتا، کیونکہ ان کا نان و نفقہ اصل میں انسان کے ذمہ ہوتا ہے۔ اسی طرح ایسے شخص کو بھی زکوٰۃ دینا جائز نہیں جس کا خرچہ شرعاً انسان پر واجب ہو۔

البتہ ان کے علاوہ دیگر رشتہ دار، جیسے:چچا، پھوپی، ماموں، خالہ، بھائی، بہن وغیرہ اگر فقیر و مستحق ہوں تو انہیں زکوٰۃ دینا جائز ہے، بلکہ زیادہ افضل ہے، کیونکہ اس میں ایک ساتھ صدقہ اور صلہ رحمی دونوں کا ثواب حاصل ہوتا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

﴿الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَهِيَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ اثْنَتَانِ: صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ﴾(سنن ترمذی: 658)

ترجمہ:مسکین پر صدقہ کرنا صرف صدقہ ہے، جبکہ رشتہ دار پر صدقہ کرنا دوہرا اجر رکھتا ہے: ایک صدقہ اور دوسرا صلہ رحمی۔

لہٰذا اگر چچا، پھوپی، ماموں یا خالہ مالی طور پر مستحق ہوں تو انہیں زکوٰۃ دینا شرعاً جائز بلکہ باعثِ اجر ہے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔